جموں :پاکستانی خاتون سے شادی پر برطرف کیے گئے سی آر پی ایف اہلکار منیر احمد نے اپنی برطرفی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور سی آر پی ایف کے اعلیٰ آفیسران سے معاملے کا ازسر نو جائزہ لینے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شادی سے پہلے سی آر پی ایف ہیڈکوارٹر سے اجازت حاصل کی گئی تھی اور تمام ضوابط پر عمل کیا گیا تھا۔منیر احمد، جو جموں کے گھروٹہ علاقے کے رہائشی ہیں، نے اتوار کو پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کی شادی مایوس کن حالات میں مئی 2024 میں اپنی خالہ زاد مینل خان سے ویڈیو کال پر ہوئی تھی، کیونکہ ان کے والد، جو کینسر کے مریض تھے ، زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے ۔انہوں نے کہا، ‘میں نے دسمبر 2022 میں سی آر پی ایف کو تحریری طور پر مطلع کیا تھا کہ میں پاکستانی شہری مینل خان سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جس پر مجھے ضروری دستاویزات فراہم کرنے کو کہا گیا۔ اپریل 2024 میں مجھے ہیڈکوارٹر سے باضابطہ اجازت ملی، جس کے بعد شادی کی ۔’منیر احمد کے مطابق، ان کی اہلیہ 28 فروری 2025 کو واہگہ-اٹاری بارڈر کے ذریعے ہندوستان پہنچی تھیں، لیکن ان کا 15 دن کا ویزا 14 مارچ کو ختم ہو گیا۔ تاہم، عدالت نے ان کی طویل مدتی ویزا درخواست کے مدنظر مینل کی ملک بدری پر روک لگا دی ہے اور وہ فی الحال جموں میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم ہیں۔ برطرف سی آر پی ایف جوان نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد تمام ضروری دستاویزات جیسے نکاح نامہ، شادی کی تصاویر، سرپنچ اور ڈی ڈی سی ممبر کے حلف نامے ، اور شادی کارڈ سی آر پی ایف کو جمع کروائے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ڈیٹا ریکارڈ بک میں بھی اہلیہ کی شہریت اور تفصیلات کا اندراج موجود ہے ۔منیر کے مطابق، انہیں پہلے میڈیا سے برطرفی کی خبر ملی اور بعد میں باضابطہ خط موصول ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر انکوائری اور صفائی کا موقع دیے انہیں نوکری سے نکالا گیا، جو سراسر ناانصافی ہے ۔احمد نے یہ بھی بتایا کہ جب ان کی اہلیہ کو ویزا ملا تو انہوں نے فوراً طویل مدتی ویزے کی درخواست دی، اور اسی بنیاد پر عدالت نے ملک بدری کا فیصلہ مؤخر کیا۔سی آر پی ایف نے احمد کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ بتاتے ہوئے شادی چھپانے کے الزام میں برخاست کیا تھا، حالانکہ احمد کا کہنا ہے کہ یہ الزام بے بنیاد ہے ۔منیر احمد نے کہا،‘میں عدالت میں برطرفی کو چیلنج کروں گا اور انصاف کی امید رکھتا ہوں۔ میں نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ تمام کارروائیاں قاعدے کے مطابق مکمل کیں۔ ’انہوں نے پہلگام دہشت گرد حملے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک محب وطن سپاہی تھے اور ہیں۔










