میڈیکل کالجوں میں 24 نئی سپر اسپیشلٹی پی جی نشستوں کی منظوری

نیشنل میڈیکل کمیشن کا بڑا فیصلہ، خطے میں اعلیٰ طبی تعلیم اور علاج کی سہولیات کو تقویت

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر میں سپر اسپیشلٹی طبی تعلیم اور تیسرے درجے کی صحت خدمات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے تعلیمی سیشن 2025-26کے لیے یونین ٹیریٹری کے مختلف میڈیکل اداروں میں ڈی ایم اور ایم چِی کورسز کی نئی اور اضافی نشستوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں اعلیٰ مہارت رکھنے والے ڈاکٹروں کی تربیت ممکن ہو سکے گی اور بیرونِ ریاست اداروں پر انحصار میں کمی آئے گی۔گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کو ڈی ایم کارڈیالوجی میں چار اور ایم چِی یورولوجی میں چار نشستیں دی گئی ہیں، جبکہ ادارے نے چھ نشستوں کی درخواست کی تھی۔ اس پیش رفت سے آئندہ برسوں میں جموں ڈویڑن میں دل اور یورولوجی سے متعلق جدید طبی خدمات میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔یو این ایس کے مطابق وادی میںگورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کو ڈی ایم پلمونری میڈیسن، ڈی ایم کارڈیالوجی، ڈی ایم میڈیکل گیسٹرو اینٹرولوجی، ایم چِی پیڈیاٹرک سرجری اور ایم چِی یورولوجی میں دو، دو نشستوں کی منظوری ملی ہے۔ ان شعبہ جات میں مریضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور تیسرے درجے کی صحت خدمات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توسیع اہم سمجھی جا رہی ہے۔اسی طرح صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ (اسکِمز) سری نگر کو ڈی ایم نیورو اینستھیزیا، ڈی ایم پیڈیاٹرک و نیونیٹل اینستھیزیا اور ڈی ایم کلینیکل امیونولوجی و ریمیٹولوجی میں دو، دو نشستیں الاٹ کی گئی ہیں۔ ان اعلیٰ تخصصی پروگراموں سے نہ صرف کریٹیکل کیئر اور پیچیدہ سرجریوں میں معاونت ملے گی بلکہ امیون اور ریمیٹولوجیکل امراض کے جدید علاج میں بھی بہتری آئے گی۔ ساتھ ہی تدریسی اور تحقیقی مواقع بھی وسیع ہوں گے۔ان منظوریوں کے بعد جموں و کشمیر کے تین بڑے سرکاری اداروں میں تقریباً 30 ڈی ایم اور ایم چِی سپر اسپیشلٹی نشستیں دستیاب ہوں گی۔ اس اقدام کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی/ایم ایس فارغین کے لیے بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے، جو ماضی میں سپر اسپیشلٹی تعلیم کے محدود مواقع کے باعث بیرونِ ریاست مقابلہ کرنے پر مجبور تھے۔ماہرینِ صحت کے مطابق کارڈیالوجی، پلمونری میڈیسن، گیسٹرو اینٹرولوجی، پیڈیاٹرک سرجری، امیونولوجی اور سپر اسپیشلٹی اینستھیزیا جیسے شعبوں میں توسیع خطے میں غیر متعدی امراض، سانس کی بیماریوں، پیچیدہ جراحی مسائل اور کریٹیکل کیئر کی بڑھتی ضرورت سے ہم آہنگ ہے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ اضافی نشستوں سے وقت کے ساتھ سرکاری اسپتالوں میں سپر اسپیشلسٹس کی دستیابی بڑھے گی، مریضوں کے انتظار کا دورانیہ کم ہوگا اور جموں و کشمیر میں تیسرے درجے کا صحت نظام مزید مضبوط ہوگا۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ خطے میں پوسٹ گریجویٹ اور سپر اسپیشلٹی طبی تعلیم کے ڈھانچے کی مرحلہ وار توسیع کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔