مینڈھرمیں سڑکوں کی ترقی کا بڑا اَقدام

مینڈھرمیں سڑکوں کی ترقی کا بڑا اَقدام

جاوید رانا نے زائداَز 3کروڑ روپے مالیت کے منصوبے شروع کئے

مینڈھر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے مینڈھر میں سڑکوں کی ترقی کے متعدد منصوبوں کا اِفتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھاجن کی مجموعی لاگت زائد اَز 3.19 کروڑ روپے ہے۔یہ اَقدامات جموں و کشمیر کے سرحدی اور دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں جو حکومت کے آخری میل تک رابطہ یقینی بنانے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔اِس موقعہ پر وزیرموصوف نے خطاب کرتے ہوئے ان منصوبوں کو ایک انقلابی اقدام قرار دیاجس کا مقصد دیرینہ بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دور کرنا اور مینڈھر میں رسائی کو بہتر بنانا ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ دیرپا اور مضبوط سڑکوں کی تعمیر پسماندہ علاقوں کی سماجی و معاشی صلاحیت کو اُجاگر کرنے کے لئے نہایت اہم ہے۔آج اِفتتاح کئے گئے بڑے منصوبوں میں مین روڈ این ایچ۔144 اے کلر سے شادھرا شریف تک کملو گلی کے راستے سڑک کی تعمیر شامل ہے جو یو ٹی کیپٹل ایکس اخراجاتی بجٹ کے تحت ایک کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی جا رہی ہے۔اِس کے علاوہ ایم ایل اے حلقہ ترقیاتی فنڈ کے تحت آری ۔ سرہوتی سڑک کی اَپ گریڈیشن 50 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے ۔وزیر نے آری۔سرہوتی سڑک کی مزید مضبوطی کے لئے بھی سنگ بنیاد رکھا جس میں 30 لاکھ روپے کی لاگت سے گڑھوں کی مرمت پروگرام کے تحت میکڈیمائزیشن اور 40 لاکھ روپے کی لاگت سے یو ٹی سیکٹر کے تحت مستقل بحالی شامل ہے۔ایک اور اہم پروجیکٹ میں مین روڈ سے حاجی پلو کے راستے دارہ ٹاپ تک سڑک کی میکڈمائزیشن شامل ہے جس کی تخمینہ لاگت 75 لاکھ روپے سے سی اینڈ ٹی سکیم کے تحت شروع کی گئی ہے۔مزید برآں، مینڈھر میں مین روڈ سے شاہستار زیارت تک سڑک کی اَپ گریڈیشن جو سی ٹی ایم وی گرسائی کے تحت کی گئی، 24 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہو چکی ہے۔جاوید رانا نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ دُور دراز، سرحدی اور پسماندہ علاقوں میں رابطہ فراہم کرنا عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ناکافی سڑکوں کی وجہ سے کوئی بھی کمیونٹی الگ تھلگ نہیں رہنی چاہیے اور معیاری رابطہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، چاہے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔وزیر نے بتایا کہ حکومت سڑکوں کی ترقی کے لئے ایک جامع اور کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے جس میں حلقہ ترقیاتی فنڈز، یو ٹی سیکٹر کی رقوم اور ہدفی مرمتی پروگرام شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس مربوط حکمت عملی کا مقصد ہر گاؤں، بستی اور سرحدی علاقے کو قابلِ اعتماد سڑکوں کے ذریعے جوڑنا ہے۔
وزیرموصوف نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے وسیع اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بہتر سڑکیں معاشی ترقی اور سماجی پیش رفت کے لئے محرک کا کام کرتی ہیں۔اُنہوں نے وضاحت کی کہ بہتر سڑکیں ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کو کم کرتی ہیں، مقامی پیداوار کو منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرتی ہیں اور پہلے نظرانداز شدہ علاقوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔وزیرجاوید رانا نے مزید کہا کہ بہتر رابطہ صحت، تعلیم اور اِنتظامی سہولیات تک آسان رسائی کو ممکن بناتا ہے جس سے معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے اور مقامی آبادی کو ترقی کے عمل میں زیادہ حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ اُنہوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کو ہدایت دی کہ تمام منصوبوں کی تکمیل میں معیار اور وقت کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیرموصوف نے واضح کیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر مرحلے پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے شفافیت اور جوابدہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ عمل درآمد کے دوران اعلیٰ طرز حکمرانی کو برقرار رکھا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ منصوبے روزمرہ آمد و رفت میں آسانی پیدا کریں گے، رابطے کو بہتر بنائیں گے اور علاقے کو درپیش دیرینہ مسائل میں نمایاں کمی لائیں گے۔مقامی باشندوں نے یہ بھی کہا کہ بہتر بنیادی ڈھانچہ مقامی کاروبار کو فروغ دے گا، تجارت کو سہارا دے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا جس سے مینڈھر میں دیرپا ترقی اور بہتر معیارِ زندگی کو فروغ ملے گا۔