Marriage Assistance Scheme

میریج اسسٹنس اسکیم مفلوج، بیٹیوں کی شادیاں خطرے میں

غریب والدین مایوستکنیکی خرابیوں نے اسکیم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا

سرینگر/وی او آئی//جموں و کشمیر میں غریب لڑکیوں کی شادیوں کے اخراجات میں مدد دینے کے لیے 2015 میں شروع کی گئی “اسٹیٹ میریج اسسٹنس اسکیم” اس وقت ایک مایوس کن صورتحال سے دوچار ہے۔ جس اسکیم نے ہزاروں غریب خاندانوں کے لیے امید کی کرن بننی تھی، وہ آج تکنیکی ناکامی، سرکاری غفلت اور بے حسی کی نذر ہو چکی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق اسکیم کے تحت ہر مستحق اور غیر شادی شدہ لڑکی کو ایک مرتبہ 75 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، تاہم اس امداد کے حصول کے لیے ضروری “ای راشن ٹکٹ” کا اجرا گزشتہ کئی ماہ سے مکمل طور پر بند ہے، کیونکہ محکمہ خوراک و امور صارفین کی ویب سائٹ مسلسل خراب ہے۔سرکاری ضوابط کے مطابق، شادی سے کم از کم دو ماہ قبل ای راشن ٹکٹ بنانا اور اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔ لیکن ویب سائٹ کی بندش کی وجہ سے درجنوں لڑکیاں اپنی درخواستیں داخل کرنے سے قاصر ہیں، اور نتیجتاً اسکیم سے باہر ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال نے متعدد غریب خاندانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔یہ ویب سائٹ کئی ماہ قبل نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (NIC) بنگلور کے حوالے کی گئی تھی تاکہ اس کی تکنیکی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے، مگر تاحال نہ کوئی اپڈیٹ آئی اور نہ ہی ویب سائٹ کی بحالی کا کوئی ٹائم فریم دیا گیا۔ محکمہ کے افسران بھی اس معاملے پر خاموش ہیں اور عوام کو تسلیوں کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔محمد امین، جن کی بیٹی کی شادی گزشتہ ماہ طے تھی، نے کہا: “دو مہینوں سے وارڈ آفس اور محکمہ خوراک کے چکر لگا رہا ہوں، ہر بار یہی جواب ملتا ہے کہ ویب سائٹ بند ہے، ٹکٹ جاری نہیں ہو سکتا۔ سسرال والے اب مزید تاریخ تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔” رعناواری کے عبدالمجید میر، جن کی دو بیٹیوں کی شادی آئندہ مہینے طے ہے، نے کہا: “اسکیم ہی ایک واحد سہارا تھی، لیکن اب صرف جھوٹی تسلیاں ہیں۔ ہمارے پاس نہ زیور ہے، نہ پیسے، صرف بے بسی ہے۔”ایک بیوہ ممتازہ بانو نے روتے ہوئے کہا: “میری بیٹی کی عمر 22 سال ہے، نہ زیور ہے، نہ کوئی آمدنی۔ اسپتال کے وقت چھوڑ کر تین بار دفتر گئی، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ میرا رشتہ ٹوٹنے کے قریب ہے۔”محکمہ خوراک کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ: “ویب سائٹ میں تکنیکی خرابی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ کیسز زیر التوا ہیں، لیکن جب تک ویب سائٹ بحال نہیں ہوتی، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔”سول سوسائٹی، مقامی نمائندے اور سماجی کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ویب سائٹ کی فوری مرمت کی جائے، یا راشن ٹکٹ کے لیے فزیکل پروسیس اور ہیلپ لائن متعارف کرائی جائے تاکہ ہزاروں غریب بچیوں کی شادیاں مزید تاخیر کا شکار نہ ہوں۔سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے منفی سماجی اثرات مرتب ہوں گے، اور حکومت کی فلاحی اسکیموں پر عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوگا۔ یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں بیٹیوں کے مستقبل کا سوال ہے۔