کہا جموںوکشمیر میں کھیلوں کی وسیع صلاحیت موجود ہے
سری نگر//ہم سب جانتے ہیں کہ کامیابی کی ایک قیمت ہے ۔ کوئی بھی شخص کوشش کے بغیر کسی کامیابی کو حاصل نہیں کرسکتا ۔محنت کا صلہ دینا قدرتی قانون ہے ۔کھیلوں میں اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔ مشق اور تربیت کے بغیر کسی بھی کھیل میں سرفہرست تک پہنچنا آسان نہیں ہے ۔لہٰذا ہر کھلاڑی کی کامیابی کے پیچھے ایک کوچ کی محنت درکاہوتی ہے ۔ کوچوں نے اَپنے ٹرینیوں سے اُن خوابوں کو پورا کرنے کی پوری کوشش کی جو ادھورے رہے ۔ کوچ کھلاڑی کو آگے کی راہ دکھا تے ہیں تاکہ ان کو کامیابی حاصل کرنا صاف نظر آجائے۔کوچ کھلاڑیوں کے لئے آسان بناتے ہیں جہاں اُنہوں نے خود مشکلات کا سامنا کیا ہو۔ ایک طرح سے ہر کھلاڑی کی کامیابی اُن کے کوچوں کے ذریعے آتی ہے۔ایسی ہی کہانی ہے مٹی کے بیٹے وِجے شرما کی ،جو اِنڈین ویٹ لفٹنگ فیڈریشن ( آئی ڈبلیو ایل ایف ) کے قومی کوچ ہیں اور حال ہی میں جب ان کے ایک ٹرینی میرا بھائی چانو نے ٹوکیو 2020ء اولمپکس میں ہندوستان کے لئے چاندی کا تمغہ جیتا تو پوری قوم کا سر فخر سے بلندکیا۔وِجے شرما اَصل میں ضلع جموں کے اکھنور کے ٹنڈا گائوں سوہال کے رہنے والے ہیں اور وہ ایک فوجی آدمی کے بیٹے ہیں جو 16 برس کی عمر میں فوج میں شامل ہوئے تھے۔ سال1968-69 میں اُن کے والد فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ مودی نگر دہلی چلے گئے اور وہاں اُنہوں نے ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی ’’ کرشنا ٹرانسپورٹ‘‘ میں بطور ڈرائیور کام کرنا شروع کیا۔درونا چاریہ ایوارڈ یافتہ وِجے شرما جو 1970ء میں پیدا ہوئے ۔اَپنے سکولی دِنوں سے ہی کھیلوں میں دلچسپی رکھتے تھے اور فٹ بال ، ایتھلیٹکس اور دیگر کھیلوں میں باقاعدگی سے حصہ لے رہے تھے ۔اُنہوں نے کہا،’’ میں اَپنے سکولی دِنوں میں پڑھائی میں اوسط درجے کا تھا جبکہ کھیلو ں کی طرف بہت زیادہ راغب تھا۔ یہ دیکھ کر میر ے والد نے میرا ساتھ دیا اور مجھے پڑھائی کے ساتھ کھیل کھیلنے کی ترغیب دی۔کالج کے دنوں میں اس کی کھیلوں میں دلچسپی بڑھ گئی کیوں کہ اسے معلوم ہوا کہ کھیلوں میں مہارت حاصل کرنے سے کسی کو سرکاری شعبے میں روزگار کے اچھے مواقع ملتے ہیں۔وِجے شرما نے اطمینان کے ساتھ کہا،’’ کالج میں 1989 ء میں ، میں نے نوکری کا موقع حاصل کرنے کے مقصد سے ویٹ لفٹنگ کھیل لیا۔ میں نے آل اِنڈیا انٹریونیورسٹی میں سونے کا تمغہ اور ویٹ لفٹنگ میں سینئر نیشنل چمپئن شپ میں کانسے کا تمغہ جیتا ۔‘‘وِجے شرما کو1993 ء میں ہندوستانی ریلوے نے اُنہیں ویٹ لفٹنگ قومی چمپئن شپ میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر اچھی ملازمت کی پیشکش کی۔ اُنہوں نے کہا ،’’ قومی چمپئن شپ میںمیرے تمغوں کی وجہ سے ہندوستانی ریلوے میں ملازمت مل گئی جو 1993 ء میں شامل ہوئی ۔میں 2000 ء تک ریلوے کے لئے کھیلتا رہا اور قومی چمپئن شپ میں باقاعدگی سے تمغے جیتا اور جاپان میں بین لاقوامی چمپئن شپ میں بھی کھیلا۔‘‘سال 2000ء میں اَپنی کلائی میں چوٹ لگنے سے وِجے شرما نے اگرچہ یہ کھیل کھیلنا چھوڑ دیا لیکن اِس کھیل سے اس کی محبت کم نہیں ہوئی اور اس نے خود کو ویٹ لفٹنگ کے کوچ میں تبدیل کر لیا۔ میری کلائی کی چوٹ ٹھیک ہونے کے بعد میں نے کوچ کا عہدہ سنبھالا۔ بعد میں ، میں نے اَپنے علاقے میں ایک جِم کھولا اور مقامی کھلاڑیوں کو تربیت دینا شروع کی اور اَپنی ریلوے ٹیم کو تربیت دینا بھی جاری رکھا۔وِجے شرما کے کیئریر نے ایک موڑ اس وقت لیا جب انہیں آئی ڈبلیو ایل ایف نے 2011ء میں نیشنل کیمپ کے لئے بلایا تھا اور اس کے بعد سے درونا چاریہ ایوارڈ یافتہ وجے شرما کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ وِجے شرما نے کہا،’’ آئی ڈبلیو ایل ایف کی طرف سے کا ل کرنے کے بعد میرے کیئریر نے ایک موڑ لیا اور 2012ء میں آئی ڈبلیو ایل ایف کا باقاعدہ قومی کوچ ہوں جو میرے ، میرے خاندان اور پورے جموں وکشمیر کے لئے باعث فخر کا لمحہ تھا۔‘‘قومی کوچ وِجے شرما اولمپکس ، کامن ویلتھ گیمز ، ورلڈ چمپئن شپ جیسے دیگر مقابلوں میں ویٹ لفٹنگ کھیل میں باقاعدگی سے ملک کے لئے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ وِجے شرما نے کہا کہ 2014کے کامن ویلتھ گیمز میں ہماری ٹیم نے زیادہ سے زیادہ تمغے جیتے ، 2016ء کے ریواولمپکس میں ہمارے کھلاڑی نے 10ویں ، 2018ء کے کامن ویلتھ میں ہمارے تمغوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور 2020ء ٹوکیو اولمپکس میں میرا بھائی چانو نے چاندی کا تمغہ جیت کر ہمارے ملک کا سر فخر سے بلند کیا۔وِجے شرما2012ء سے آئی ڈبلیو ایل ایف میں قومی کوچ کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور پونم یادو، ستیش شیولنگم ، وِکاس ٹھاکر اور دیگر معروف کھلاڑیوں کے کوچ رہے ہیں۔وِجے شرما نے کہا کہ جموں وکشمیرمیں کھیلوں کی وسیع صلاحیت موجود ہے ۔ اُنہوں نے جموںوکشمیر گزشتہ دو برسوں سے کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرر ہا ہے لیکن صرف بنیادی ڈھانچہ ہی اچھے کھلاڑی پیدا نہیں کرسکتا بلکہ ہمیں جموں وکشمیر میں اچھی تعداد میں کوچ اور ٹرینروں کی بھی ضرور ت ہے تاکہ ہم عالمی معیار کے کھلاڑی پیدا کرسکیں۔قومی کوچ کا کہنا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی خدمت کے لئے ہمیشہ دستیاب رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا،’’میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور ٹریننگ پیٹرن کی ترقی کے لئے کسی بھی روڈ میپ کے مسودے کو تیار کرنے میں ہمیشہ جموں و کشمیر حکومت کی مدد کروں گا تاکہ بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی یہاں پیدا ہوں۔‘‘جموں و کشمیر کے نوجوانوں اور خواہش مند کھلاڑیوں کے نام اپنے پیغام میں وِجے شرما کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے خوابوں اور خواہشات پر عمل کرنا چاہیئے اور کھیلوں کو کیریئر کے طور پر لینا چاہیے۔










