مہنگائی کی مار اب جموں وکشمیر کے غریب عوا م کیلئے ناقابل برداشت

سرینگر//مہنگائی کی مار اب جموں وکشمیر کے عوام کے لئے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے ایک طرف کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ہردن سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی اضافہ ہو رہاہے اور دوسری جانب تعمیراتی سامان ملبوسات ادویات کی قیمیتں بھی آسمان کوچھورہی ہے جبکہ ماہرین کے مطابق اَن لاک ڈاون کے بعد امید تھی کہ معاشی حالت میں ٹھہراؤ آ ئے گا تاہم اقتصادی طور پرلوگ دن بدن بد حالی کے دلدل میں پھنستے جارہے ہیں ۔اے پی آ ئی کے مطابق جموں وکشمیر میں مہنگائی اب لوگوں کے لئے وبال جان بنتی جارہی ہے ۔کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کوچھورہی ہے لوگوں کی قوت خریداب مکمل طور پرجواب دے رہی ہے امیرامیرترہوتاجارہااور غریب کے لئے زندہ رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بنتا جارہاہے ۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق جس تیز ی کے ساتھ آمدانی کے وسائل کم ہوتے جارہے ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے اس سے یہی ظاہرہوتاہے کہ سرکارزمینی صورتحال کے بارے میں یاتو ناواقف ہے یاغیرسنجیدگی کا مظاہراہ کررہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک ماہ پہلے سرکار نے 12ہزار کروڑ روپے ایپکس بجٹ ریلیز کرنے کااعلان کردیا اور اتنی بڑی مقدار میں سرکار ی اداروں کورقومات فراہم کی گئی ہے ماضی میں اس کی مثا نہیں ملتی ہے مگرحیرانگی اس بات کی ہے کہ تعمیرات سرگرمیاں اسقدرٹھنڈے پڑی ہوئی ہے کہ لوگ جہاں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے دوچار ہے وہی مزدوروں کوکام نہیں مل پارہاہے ۔دیہات میں ایم جی نریگا اسکیم بھی اب ٹھپ ہوچکی ہے دیہی ترقی محکمہ کی جانب سے جوکام ہاتھ میںلئے گئے ہے ان کی رقومات بھی واگزار کرانے میں لیت ولعل سے کام لیاجارہاہے سینکڑوں کی تعداد میں جاب کارڈ ہولڈر نان شبینہ کے محتاج بن گئے ہے ۔ماہرین کے مطابق اگرسرکار نے 12ہزار کروڑ روپے تعمیراتی سر گرمیاں انجام دینے کے لئے واگزار کئے ہے تو جموںو کشمیرمیں تعمیراتی سرگرمیاں عروج پرہونی چاہئے تھی تاہم ایسا کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہاہے کاریگر مزدور ہنر مند بیکار بیٹھے ہوئے ہے اور دوسری جانب انہیں مہنگائی کی مار سہنی پڑ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق ہرہفتہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں پانچ سے سات فیصدی کااضافہ ہورہاہے اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے صرف پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بتایاجاتاہے ۔ماہرین کے مطابق جموںو کشمیر کے عام انسان کی آمدانی میں 40-55%تک کی کمی آ ئی ہے اور لوگ گوناں گوں معاشی بحران سے دو چار ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق چائے ،تیل،سبزیاں ،خریدنا اب اسکی بس کی بات نہیں رہی ہے حیات بخش ادویات کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بیمار اب ڈاکٹروں کے پاس علاج کرنے نہیں جارہے ہے لیبارٹری والوں نے ٹیسٹ کرانے کی فیس میں اضافہ کیاہے ہرطرف سے مہنگائی ہی مہنگائی نظرآ رہی ہے اور لوگ جہاں ذہنی تناؤ میں مبتلاہوتے جارہے ہے وہی غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کے لوگ اپنے لئے زندگی اب وبال تصورکررہے ہے ۔