صوبہ کشمیر میں مہنگائی کا جن پوری طرح سے بوتل سے باہرآ گیاہے کھانے پینے کی اشیاء تعمیراتی سامان کی قیمتیں آسمان کوچھورہی ہے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے لوگ گوناں گوں مصائب سے دو چار ہوگئے ہیں اور اس بات پر حیرانگی کااظہارکررہے ہیں کہ انتظامیہ کی موجودگی اب کہی بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے جس کے نتیجے میں ناجائز منافہ خوروں کی من مانیاں عروج پرہے ۔واد ی کے اطراف واکناف سے جواطلاعات موصول ہورہی ہے ا سکے مطابق ناجائزمنافہ خوروں نے اپنی من مانیاں عروج پرپہنچادی ہے بوئلر مرغ کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ ہوا ہے ،جبکہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیںہردن بدل رہی ہے اور ناجائزمنافہ خوروںکوکوئی پوچھنے والانہیں ۔سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی وادی کشمیرمیں قیمتوں میںاضافہ ہوناروز مرہ کامعمول بن گیاہے ۔ہول سیل ڈیلروں کامانے تو ان کاکہناہے کہ قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے پرچون دوکاندار خو دہی قیمتوں کوبڑھارہے ہے جس سے لوگوں کومشکلوں کاسامناکرنا پڑرہاہے ۔تعمیراتی سامان کے بارے میں عوامی حلقوں کاکہناہے کہ پچھلے تین برسوں سے ریت بجری بولڈر سیمنٹ لوہا عام انسان کی قوت خرید سے باہرہوتا جارہاہے۔ سابق چیف سیکریٹری ارون کمار مہتا نے کئی بار دپٹیکم کمشنروں کوہدایت کی تھی کہ ریت، باجری، بولڈروںمٹی کی قیمتیں مقرر کی جائے تاکہ تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے والے لوگوں کوکسی مشکل کاسامناناکرنا پڑے۔تاہم پھلئے تین برسوںسے وادی کشمیرمیں اینٹ، بجری، مٹی، بولڈر کاکوئی نرخ سرکار نے مقرر نہیں کیاہے ۔اینٹ بھٹ مالکان کی من ممانیاں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اگرانہیں ایک نمبر کی اینٹ فروخت کرنی ہے ا سکے بدلے سیکنڈ گریڈ اینٹ کواے گریڈ اینٹ کی آڑ میں فروخت کیاجارہاہے ۔کشمیروادی میں جوغیرقانوننی کان کنی شروع ہوئی ہے اور یہاں کے مقامی ٹھیکہ داروں کا رکنوں مزدوروں کونظر انداز کیاگیا اسی وجہ سے تعمیراتی سامان کی قیمتیںآسمان کوچھورہی ہے۔ تین سال پہلے ریت کی قیمتیںٹپر تین سے پانچ ہزا رکی تھی او راب یہی ایک ٹپرریت دس سے گیارہ ہزار روپے میں فروخت ہورہے ہے باجری بولڈر کی قیمتوں میں اضافہ کردیاہے سیمنٹ کی قیمتیں ہرماہ بدلتی رہتی ہے کبھی سیمنٹ کی قیمتوں میںکمی دکھائی نہیں دیتی ہے لوہااور ہارڈ ویئرسامان بھی عام نسان کی قوت خرید سے باہر ہوتاجارہاہے ۔عوامی حلقے اس بات پرحیرانگی کااظہارکرتے ہیں کہ انتظامیہ کاعمل دخل کافی حد تک کم ہوگیاہے جوسال 2023میں سرکار نے گوشت کی قیمتیں مقررکی ہے عمل سے خود کوالگ کیاتب سے بازا رکمیٹیاں عوام کے لئے وبال جان بنتی جارہی ہے ۔بازار کمیٹی نے 650روپے گوشت کی قیمت مقرر کی ہے اب وہی گوشت سات سو پچاس میںفروخت ہورہاہے اورعوام کے میعاری گوشت کوکوئی ضمانت نہیں دی جاتی ہیْ۔وادی کشمیرمیں ہرایک شئے عام انسان کے قوت خرید سے باہرہوتی جارہی ہے ا وردوسری جانب عوام کے امدادکے وسائل محدود ہوتے جارہے ہیںجسے عام انسان متاثرہورہاہے۔










