dooran

مہاجر ریلیف میں مبینہ فراڈ کا معاملہ

سابق پی ایچ ای ملازم کے خلاف عدالت میں فرد جرم پیش

سرینگر//یواین ایس // پولیس کی اکنامک آفنسز وِنگ کشمیر، کرائم برانچ جموں و کشمیر نے مہاجر ریلیف کی مبینہ غیر قانونی حصولیابی کے معاملے میں سابق پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکمہ کے ملازم کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔یو این ایس کے مطابق ملزم کی شناختمحمد حسین شاہ ساکن سیداپورہ شوپیان، حال مقیم ننر کوہ باغ گاندربل کے طور پر ہوئی ہے، جو پی ایچ ای ڈیپارٹمنٹ گاندربل ڈویڑن کا ریٹائرڈ ملازم ہے۔ چارج شیٹ عدالت 19ویں الیکٹریسٹی مجسٹریٹ جموں کے روبرو پیش کی گئی ہے۔ کیس کا تعلق تقریباً 18,30,265 روپے مالیت کے مہاجر ریلیف کی مبینہ غیر قانونی وصولی سے ہے۔ای او ڈبلیو کے مطابق یہ کارروائی ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مذکورہ شخص نے سرکاری ملازمت میں ہوتے ہوئے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو غیر قانونی طور پر مہاجر کے طور پر رجسٹر کروا کر مالی امداد حاصل کی، حالانکہ وہ اس کا اہل نہیں تھا۔تحقیقات کے دوران یہ بات ابتدائی طور پر ثابت ہوئی کہ ملزم نے جان بوجھ کر اپنی ملازمت سے متعلق حقائق چھپائے اور غلط بیانی سے مہاجر رجسٹریشن حاصل کی۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس عمل کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو نقصان اور ملزم کو ناجائز فائدہ پہنچا۔یو این ایس کے مطابق جمع شدہ شواہد کی بنیاد پر ملزم کے خلاف سیکشن 420 آر پی سی (دھوکہ دہی) کے تحت جرم بنتا ہے۔ تمام قانونی و ضابطہ جاتی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ہے۔ای او ڈبلیو کشمیر نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ معاشی جرائم کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا اور سرکاری فلاحی اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔