جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے مُبارک منڈی ہیرٹیج کمپلیکس کا دورہ کیا اور گزشتہ کچھ برسوں سے جاری تحفظ اور تحفظی کاموں کی پیش رفت کاجائزہ لیا۔اِس موقعہ پر اُن کے ہمراہ پرنسپل سیکرٹری کلچر، سیکرٹری آر اینڈ بی ، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مُبارک منڈی ہیر ٹیج سوسائٹی ، ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کے علاوہ دیگر متعلقہ اَفسران بھی تھے۔ چیف سیکرٹری نے کمپلیکس کی مختلف تاریخی عمارتوں کا دورہ کیا اور وہاں جاری تحفظی کاموں کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے ان ڈھانچوں کی بحالی اور ان کے دوبارہ اِستعمال کے بارے میں سوسائٹی کے بعد کے منصوبوں کے بارے میں دریافت کیا۔اَتل ڈولونے سوسائٹی پر بھی زور دیا کہ وہ کم سے کم وقت کے اندر اسے مکمل کرنے کے لئے وہاں کام کو مزید تیز کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ ورثے کی بحالی ایک تکنیکی کام ہے جس کے لئے مستعدی اور اِنتہائی پیشہ ور اَفرادی قوت کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کمپلیکس کی اصل شان عظمت کو بحال کرنے اور اِس کے ماضی کی شان کے مطابق اس کی جمالیاتی کشش کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔وہ ڈوگرہ آرٹ میوزیم کی میزبانی کرنے والے تزئین و آرائش شدہ دربار ہال کے اندر گئے جہاں اُنہوں نے مختلف حصوں کا دور ہ کر کے نیومز میٹکس گیلری، جیولری سیکشن، آرکیالوجی سیکشن اور ماسٹر سنسارک اینڈ گیلری کا مشاہدہ کیا۔اُنہوں نے میوزیم کی عمارت کے علاوہ راجہ رام سنگھ اور راجا امر سنگھ پیلس جیسے ڈھانچوں میں جاری بحالی کے کاموں میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جوکہ جلد ہی اس یادگار کے مختلف حصوں میں مجوزہ تاریخی طور پر قیمتی نوادرات کی میزبانی کے لئے مکمل ہونے والا ہے۔اُنہوں نے یہاں انٹیک کی مشاورت سے سیاحوں کی سہولیت کے لئے کثیر المنزلہ پارکنگ کی ترقی کے علاوہ صحن کی خوبصورتی اور دیگر سہولیات کی تخلیق کی ضرورت کا بھی جائزہ لیا۔چیف سیکرٹری نے مزید بتایا کہ پی پی پی موڈ کے تحت تیار کردہ حصے کے ساتھ مل کر یہ کمپلیکس جموں شہر کے نمایاں سیاحتی مقامات میں سے ایک بننے جا رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کاموں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس وقت جاری بحالی، تحفظ اور تحفظی کام اگلے 2 برسوں میں مکمل کئے جائیں گے تاکہ اِس کمپلیکس کو دیکھنے کے لئے ایک پُرکشش جگہ بنایا جا سکے۔اس دورے کے دوران پرنسپل سیکرٹری کلچر سریش کمار گپتا نے اس میگا پروجیکٹ کے دیگر پہلوؤں کے علاوہ محفوظ شدہ ڈھانچوں کے دوبارہ اِستعمال کے منصوبوں کے بارے میں جانکاری دی۔اُنہوں نے بتایا کہ کمپلیکس کے پیچھے موجود عظیم الشان ڈھانچے بشمول رانی چاڈک محل، پنک ہال وغیرہ کو پی موڈ میں تیار کیا جائے گا۔ اُنہوں نے اِنکشاف کیا کہ محکمہ نے اس مقصد کے لئے ٹرانزیکشن ایڈوائزر کی خدمات حاصل کرنے کے لئے بولیاں طلب کی ہیں اور جلد ہی اس منصوبے پر کام یہاں شروع کیا جائے گا۔ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایم ایم جے ایچ ایس دیپکا شرما نے اس کمپلیکس کے تحفظ کے اغراض و مقاصد کے بارے میں مجموعی تعارف پیش کیا۔ اُنہوں نے اَب تک کئے گئے کاموں کی تفصیل بتائی اور مختلف ڈھانچوں کو ڈسپلے گیلریوں، عجائب گھروں، لائبریری اور ثقافتی مراکز کے طور پر اِستعمال کرنے کے لئے مستقبل کے دوبارہ اِستعمال کے منصوبوں کی وضاحت کی۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ اِس طرح کے کمپلیکس کے تحفظ کے لئے پہلا ویژن دستاویزاِنٹیک نے سال 2008 میں تیارکیا تھا اور بعد میں ایک جامع ماسٹر پلان تیار کر کے 2019ء میں منظور کیا گیا تھا۔ اِس کمپلیکس کو بنیادی طور پر 6 زونوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں پبلک زون، نالج سینٹر، انٹرپریٹیشن اینڈ کلیکشن گیلریاں، طرزِ زندگی، تجرباتی جگہیں اور کرافٹس بازار شامل ہیں۔میٹنگ میںیہ بھی اِنکشاف کیا گیا کہ اس ماسٹر پلان کے تحت اس ہیرٹیج کمپلیکس کے مختلف ذیلی منصوبوں پر 144.15 کروڑ روپے کی رقم خرچ کی جانی ہے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ چند ذیلی منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے اور دیگر ذیلی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔










