موٹرسائیکلوں ،اسکوٹروں اوراسکوٹیز کی ضبطی مہم ایک اجتماعی سزا :محبوبہ مفتی

سرینگر //سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے موٹرسائیکلوں ،اسکوٹروں اوراسکوٹیزکوضبط کرنے کی جاری کارروائی پرسخت ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ جن علاقوںمیں غیرمقامی مزدوروںکی ہلاکتوںکے واقعات رونماہوئے ،وہاں3 دن قبل منقطع کر دی گئی ہیں۔محبوبہ مفتی نے کشمیر میں دو پہیوں والے ٹرانسپورٹ کوضبط کرنے پر جموں وکشمیرکی انتظامیہ کوتنقیدکا نشانہ بنایا۔جے کے این ایس کے مطابق پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو کہا کہ کشمیر میں پولیس کی طرف سے بڑی تعداد میں موٹرسائیکلوں ،اسکوٹروں اوراسکوٹیز کو ضبط کرنا ایک’اجتماعی سز‘ اور نوجوانوں کی روزی روٹی چھیننے کا ایک اقدام ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی23اکتوبرسے ممکنہ دورے سے پہلے ، بہت سے لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے موٹرسائیکلوں ،اسکوٹروں اوراسکوٹیز کو پولیس نے بغیر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے ضبط کر لیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 26، اکتوبر کے بعد اپنی گاڑیاں واپس لے سکتے ہیں۔تاہم آئی جی پی کشمیرنے جمعرات کویہ واضح کیاتھاکہ موٹرسائیکلوں وغیرہ کی ضبطی اورکچھ علاقوںمیں انٹرنیٹ خدمات پرعائدبندش کامرکزی وزیرداخلہ کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ سیکورٹی سے جڑاایک معاملہ ہے ۔پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کشمیر میں موٹر سائیکلوںکوضبط کرنے کی حالیہ مہم ایک اجتماعی سزا ہے اور جو کچھ بھی چھیننے کا دوسرا طریقہ ہے ،کشمیری نوجوانوں کو باعزت طریقے سے اپنی روزی کمانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ مرکزی سرکارکے اُن دعوئوںکے برعکس ہے کہ کشمیرمیں نوجوانوںکوروزگارفراہم کیاجائیگا۔اُدھر پولیس کا کہنا ہے کہ دو پہیوں کی پکڑ دہشت گردی کے خلاف معمول کے اقدامات کا حصہ ہے۔آئی جی پی کشمیر زون وجے کمار نے ٹویٹ کیا کہکچھ موٹر سائیکلوں کوضبط کرنا اور کچھ ٹاورز کا انٹرنیٹ بند کرنا خالصتاًدہشت گردانہ تشدد سے متعلق ہے۔ اس کا معزز وزیرداخلہ کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔