سرینگر//وادی کشمیر میں موسم سرما کی شروعات کے ساتھ ہی شہر و دیہات میں بجلی سپلائی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی شیڈول شروع کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کے ساتھ کار باری افراد،طلباء حتیٰ کہ سرکاری دفاتر میں بھی کام کر رہے لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔جبکہ سرکاری کی جانب سے کئے جا رہے بجلی سپلائی میں بہتری کے دعوے زمینی سطح پر کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں ۔نمائندے کے مطابق محکمہ بجلی کی جانب سے حسب روایت امسال بھی موسم شروع ہوتے ہی بجلی سپلائی میںغیر معمولی کٹوتی شروع کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں عام صارفین، کارباری افراد کے علاوہ امتحانات کی تیاریوں میں مصروف طلباء کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مصارفین کا الزام ہے کہ اگر چہ بجلی سپلائی کے لئے باضابطہ طور کٹوتی شیڈول مقرر کیا گیا ہے تاہم متعلقہ محکمہ اس شیڈول کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من مانی طریقوں پر بجلی کی سپلائی بحال کراتے ہیں اور کسی بھی جگہ مشہر کر دہ شیڈول کے مطابق کسی بھی جگہ عمل نہیں ہ۰و رہی ہے جس کے سبب عام لوگوں کو انتہائی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔لوگوں نے متعلقہ گریڈ ااسٹیشنوں پر تعینات اہلکار بجلی کے شیڈول کی صرایحاً خلاف ورزی کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں اور وہ ایسے علاقوں کو ہی بجلی کی سپلائی بحال کی جارہی ہے جہاں کے کارخانہ دار اور تجارت سے وابستہ افرادکے ساتھ ان کا ساز باز چلتا ہے ۔اس دوران کشمیر نیوز سروس وادی کشمیر کے پلوامہ ،شوپیان،ترال،اننت ناگ کولگام کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر کے متعدد علاقوں سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ موسم سرما سے قبل ہی یہاں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کے سبب لوگ سخت پریشانیوں کاسامنا کر رہے ہیں۔ ادھر شہر خاص کے علاقوں کے ساتھ سیول لائنز علاقوں میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ پریشان حال ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج چونکہ یونیورسٹی اور سٹیٹ بورڈ کی طرف سے طلبا کے امتحانات لئے جارہے ہیں تاہم بجلی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے امتحانات میں شرکت کرنیوالے طلبا کو سخت دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کے نتیجے میں اگر چہ صاحب ثروت لوگوں کے بچے انواٹروں اور روشنی دینے والے قیمتوں آلوں سے اپنی امتحانی تیاریاں کررہے ہیں تاہم غریب اور کسمپرسی کی زندگی گذارنے والے لوگوں کے بچوں کے امتحانات پر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںبلکہ ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہورہا ہے ۔ کرنا کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر کے مختلف قصبوں میں بجلی نظام درہم برہم ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں بجلی سپلائی کی صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے اور یہاں بھی لوگوں کو گھپ اندھیرے میں رہنا پڑرہا ہے۔ ادھر محکمہ بجلی کا کہنا کہ موسم سرما آنے کے ساتھ ہی لوگوں نے بجلی کا غیر قانونی استعمال شروع کرنا شروع کیا ہے جس کی وجہ سے بجلی سپلائی فراہم کرنے میں محکمے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے محکمے نے عوام سے بجلی کا منصفانہ استعمال کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ بجلی سپلائی بلا خلل فراہم کی جا سکے










