وادی میں خوراک، بجلی اور کنیکٹیویٹی سمیت ضروری سامان وافر مقدر میں موجود / صوبائی کمشنر کشمیر
سرینگر / سی این آئی // موسم میں بہتری کے ساتھ ہی جہلم میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے کی بات کرتے ہوئے صوبائی کمشنر کشمیر نے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڈگام میں 9ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خوراک، بجلی اور کنیکٹیویٹی سمیت ضروری سامان پوری وادی میں موجود ہے او ر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سی این آئی کے مطابق صوبائی کمشنر کشمیر انشول گرگ نے سیلابی صورتحال سے متاثرہ علاقوں کا دور ہ کیا جس دوان انہوں نے میڈیا نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہلم بنڈھ میں شگاف پڑنے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر بڈگام کے متاثرہ علاقوں سے تقریباً 9ہزار لوگوں کو نکالا گیا ہے۔انہوں نے لوگوں سے گھبرانے کی بھی اپیل کی، یہ یقین دلاتے ہوئے کہ صورتحال قابو میں ہے کیونکہ پانی کی سطح کم ہورہی ہے۔انہوںنے کہا ’’ بڈگام کے کچھ علاقوں میں پانی آیا ہے لیکن احتیاطی اقدام کے طور پر، ہم نے کل رات ہی انخلا ء کیا۔ تقریباً 9,000 لوگوں کو کسی بھی جانی نقصان سے بچنے کیلئے بحفاظت منتقل کیا گیا۔ ‘‘ صوبائی کمشنر کشمیر نے کہا کہ موسم میں بہتری آئی ہے اور سنگم اور رام منشی باغ سمیت اہم مقامات پر پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرینگر کے کچھ حصوں بالخصوص لسجن جیسے نشیبی علاقوں میں احتیاطی انخلاء بھی کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ’’ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور دیگر ریسکیو ٹیمیں زمین پر موجود ہیں۔ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کیلئے ہم ذاتی طور پر صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لوگوں کی طرف سے تعاون قابل ستائش رہا ہے، اور باقاعدہ ایڈوائزری جاری کی جا رہی ہے تاکہ کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ‘‘ گرگ نے مزید کہا کہ محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول جہلم کے پشتوں کو مضبوط بنانے کیلئے مسلسل کام کر رہا ہے اور کسی بھی کمزور جگہ سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’جہاں بھی ضرورت ہو، ٹیمیں پانی کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہیں‘‘۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ خوراک، بجلی اور کنیکٹیویٹی سمیت ضروری سامان پوری وادی میں غیر متاثر ہے۔ گرگ نے کہا ’’ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ پرسکون رہیں، ایڈوائزری پر عمل کریں، اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں، پہلے سے گردش کرنے والے نمبروں پر ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ ‘‘










