amit shah

مودی حکومت کی صحت حکمتِ عملی میں نمایا کامیابی

بھارت آنے والے مختصر عرصے میں ملیریا سے مکمل پاک ہوگا// امیت شاہ

سرینگر/ یواین ایس / /مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اتوار کو کہا کہ بھارت میں ملیریا کے معاملات میں 97 فیصد کمی درج کی گئی ہے اور ملک آنے والے مختصر عرصے میں ملیریا سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا۔ وہ یہاں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ آل انڈیا میڈیکل کانفرنس – آئی ایم اے نیٹ کان 2025 سے خطاب کر رہے تھے۔امیت شاہ نے کہا کہ آیوشمان بھارت، مشن اندر دھنوش اور دیگر صحت سے متعلق مرکزی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کے باعث یہ نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نہ صرف ملیریا کے کیسوں میں نمایاں کمی لانے میں کامیاب رہی ہے بلکہ ڈینگی سے اموات کی شرح بھی کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گئی ہے، جبکہ زچگی کے دوران اموات میں 25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا’’2014 میں مرکزی حکومت کا صحت بجٹ 37 ہزار کروڑ روپے تھا، جو اب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بڑھ کر 1.28 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ تمام کامیابیاں اسی وقت ممکن ہوئیں جب صحت سے متعلق اسکیموں کو زمینی سطح پر مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا۔‘‘مرکزی وزیر داخلہ نے ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات کو حکومت کی صحت انفراسٹرکچر اور اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگ کریں تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو وزیر اعظم کے وِکست بھارت 2047 کے وڑن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک صحت مند آبادی کی اشد ضرورت ہے، اور اس مقصد کے حصول میں ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ 2014 کے بعد سے حکومت نے ایک جامع اور مضبوط صحت ایکو سسٹم تشکیل دینے کی کوشش کی ہے، جس کے اہم ستونوں میں سواچھ بھارت مشن، آیوشمان بھارت، فِٹ انڈیا موومنٹ اور کھیلو انڈیا شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جنیرک ادویات کو سستا بنایا، کئی دواؤں سے جی ایس ٹی ہٹایا، میڈیکل نشستوں میں اضافہ کیا اور ایمس کے نیٹ ورک کو وسعت دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں ایمس کے ذریعے ایک ایسا پروگرام شروع کیا جائے گا جس کے تحت **پرائمری ہیلتھ سینٹروں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹروںکو ٹیلی میڈیسن اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔آئی ایم اے کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر امیت شاہ نے تنظیم کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ سستی، قابل رسائی اور معیاری صحت خدمات کے تناظر میں اپنے کردار اور ذمہ داریوں پر ازسرنو غور کرے۔ انہوں نے کہا کہ طبی تعلیم میں اخلاقیات اور پیشہ ورانہ اقدار کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور آئی ایم اے کو اس حوالے سے حکومت کی مدد کرنی چاہیے۔مرکزی وزیر داخلہ نے آئی ایم اے پر زور دیا کہ وہ ایسے ڈاکٹروں کی فہرست تیار کرے جو رضاکارانہ طور پر روزانہ تین گھنٹے ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ضرورت مند مریضوں کو تشخیص اور طبی مشورہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ صحت مند طرزِ زندگی کے تصور کو اپنانا بھی ضروری ہے۔امیت شاہ نے اس موقع پر بعض ڈاکٹروں کی جانب سے آیوشمان بھارت اسکیم اور جنیرک ادویات کے کردار کو کم تر دکھانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں موجود خلا کو پْر کرنے کے لیے یہ اسکیمیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘‘اگر کوئی ان کوششوں کی تعریف نہیں کرنا چاہتا تو یہ اس کا حق ہے، لیکن انہیں کم تر دکھانے کی کوششیں بند ہونی چاہئیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت ملک کے ہر شہری کو بہتر، سستی اور معیاری صحت سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔