سرینگر// دربار موں کوجموں اور کشمیرکے لوگوں کے درمیان بہتر رشتوں کی ضمانت قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر اور جموںو کشمیرکی سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموںو کشمیر کے لوگوں کی سب سے بڑی نشانی سیکولرازم اور موجودہ مرکزی حکومت تقسیم کروں کے فارمولے پرعمل کرکے جموں وکشمیرکے لوگوں کوبھی بانٹنے کی کارروائیاں عمل میں لارہی ہے ۔آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے ایک نظریہ تھا جس نظریہ کے تحت انہوںنے نہ صرف پاکستان کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھایاتھا بلکہ کئی تاریخی اقدامات بھی اٹھائے ۔اے پی آ ئی کے مطابق جموں میں پرُحجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر اور جموںو کشمیرکی سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ دربار موں جموں اور وادی کے لوگوں کے درمیان صرف تجارت کاہی ذریعہ نہیں تھا بلکہ یہ دوصوبوں کے درمیان رشتوںکومضبوط بنانے کاذریعہ تھا۔انہوںنے کہا کہ دربار موں ختم کرنے سے زیادہ متاثر جموں کے تاجر ہوئے ہیں اور تاجر بار بار اس بات کاتقاضہ کررہے ہے کہ دربار موں ختم کرنے سے انہیں مشکلوں کاسامناکرنا پڑیگا جموںو کشمیرکو سیکولرازم شوشل ازم کامرکز قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ جب ماضی پرنظردوڑاتے ہے توجموں وکشمیرکے لوگوں نے کثرت میں وحدت والے بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی جسکے نتیجے میں جموں وکشمیرکے لوگوں کوخصوصی درجہ دیاگیا اور جموںو کشمیرکو ہندوستان کاتاج بھی کہاگیا۔پانچ اگست 2019کے فیصلے کوغیرآئینی غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت لوگوں کوباٹنے کی راہ پرگامزن ہے جسکے مثبت نتائج بر آمد نہیں ہوسکتے ہے ۔انہوںنے کہاکہ ملک کے سابق وزیراعظم آنجانی اٹل بہاری واجپائی کے پاس ایک ویجن تھا جس کی وجہ سے انہوںنے پاکستان کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھایااور کئی دہائیوں کے بعد بھارت پاکستان کے مابین 2003میں جنگبندی معاہدے پربھی دونوں ملکوں نے دستخط کئے جس پرآج بھی عمل ہورہاہے ۔انہوںنے کہا کہ بھارت پاکستان کے مابین کئی راستوں کوکھولاگیاآر پار تجارت بحال کردی گئی اور ایک ایسا ماحول قائم ہوا تھا جس سے آج بھی لوگ یاد کررہے ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ نے موجودہ مرکزی حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف مزہب کی بنیاد پرلوگوںکوتقسیم کرکے اپنے اقتدار کودوعام بخشنے کی برپورکوشش کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں بیروزگاری حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے مہنگائی عروج پرہے کسان نوماہ سے سرآپا احتجاج بنے ہوئے ہے ملک کی معاشی اور اقتصادی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے لوگ طرح طرح کے مصائب ومشکلات سے دوچار ہیں اور مرکزی حکومت صرف اعداد شمار کی بنیاد پرلوگوں کویہ یقین دلانے کی کوشش کررہی ہے کہ سرکار ان کے غم میں نڈہال ہوچکی ہے جبکہ زمینی سطح پرصورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے ۔سابق وزیراعلیٰ نے370-35Aکی بحالی کی زکرکرتے ہوئے کہا کہ اب جموں صوبہ لوگ بھی یہ بات شدت کے ساتھ محسوس کررہے ہے کہ دفعہ 370کے منسوخ ہونے سے انہیں مصائب سے گزرنا پڑ رہاہے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ اپنی جدو جہد پرُامن طریقے سے جاری رکھے گی اور جموںو کشمیرکے لوگوں کے مسائل کواُجاگرکرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ دی گی ۔جموںو کشمیرکی اجتماعیت اور انفرادیت ہماری پہچان ہے اور اس سے دوبارہ قائم کرنے کے لئے وہ اپنی خدمات آخری دم تک جاری رکھے گی ۔










