موجودہ طبی سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ وزیر صحت

موجودہ طبی سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ وزیر صحت

کہا، ایس ڈی ایچ کپواڑہ میں 23.75 کروڑ روپے کی لاگت سے 50 بستروں پر مشتمل سی سی بی زیرِ تعمیر ہے

جموں//وزیربرائے صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے ایوان کوبتایاکیا کہ بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ موجودہ طبی سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔وزیر موصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں رُکن اسمبلی میر محمد فیاض کی طرف سے ایس ڈی ایچ کپواڑہ کے بارے میں اُٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔اُنہوںنے بتایا کہ انڈین پبلک ہیلتھ سٹینڈرڈز ( آئی پی ایچ ایس ) کے معیارات کے مطابق جموں و کشمیر یونین ٹیر یٹری کے ہر ضلع میں ایک ضلعی ہسپتال ہونا لازمی ہے اور کپواڑہ کے معاملے میں ضلعی ہسپتال کو پہلے ہی گورنمنٹ میڈیکل کالج ( جی ایم سی ) ہندواڑہ کے ایسوسی ایٹیڈ ہسپتال کی سطح تک اَپ گریڈ کیا جا چکا ہے جس سے علاقے کی آبادی کو ٹیر یشری ہیلتھ کئیر سروسز دستیاب ہو رہی ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلعی ہسپتال کو سپرسپیشلیٹی ہسپتال کی سطح تک اَپ گریڈ کرنا آئی پی ایچ ایس کے معیارات کے دائرہ کار میں نہیں آتا ۔ وزیر سکینہ اِیتو نے یہ بھی بتایا کہ ای سی آر پی ۔ دوم کے تحت سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کپواڑہ میں 50 بستروں کا کرٹیکل کئیر بلاک ( سی سی بی ) فی الحال 23.75 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر کے مراحل میں ہے ۔ اس کے علاوہ ضلع میں مختلف صحت مراکز پر ڈسٹرکٹ انٹی گریٹیڈ ہیلتھ لیبارٹری ( ڈی آئی پی ایچ ایل ) اور بلاک پبلک ہیلتھ یونٹس ( بی پی ایچ یوز ) قائم کئے جا رہے ہیں جو پی ایم آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت ہیں ۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ مریضوں کی آمد کے مطابق طبی اور پیرا میڈیکل عملے کو بڑھانے کیلئے محکمہ موجودہ وسائل کی تقسیم کر رہا ہے اور بالخصوص سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ایس ڈی ایچ کپواڑہ پر توجہ کے ساتھ ضلع میں دستیاب عملے کو صحت مراکز میں بہترین طریقے سے دوبارہ تقسیم کرنے کا ایک جامع منصوبہ نافذ کیا جا رہا ہے ۔ وزیر صحت نے کہا کہ طویل عرصے سے ایک ہی جگہ پر تعینات عملے کی وقتاً فوقتاً ٹرانسفر کی جا رہی ہے تا کہ مریضوں کی آمد اور عملے کی تعداد کے درمیان فرق کو منظم طریقے سے ختم کیا جا سکے اور ضلع بھر میں منصفانہ اور مؤثر ہیلتھ کئیر کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ اِس ضمن میں رُکن اسمبلی میر سیف اللہ نے ضمنی سوال اُٹھایا۔