موجودہ دور میں بچوں بلاامتیاز کی تربیت کی ضرورت، بہتر نشوونما اور ذہنی فراغت کی خاطر

موجودہ دور میں بچوں بلاامتیاز کی تربیت کی ضرورت، بہتر نشوونما اور ذہنی فراغت کی خاطر

بچوںکو کھیل کود میں مشغول رکھنا اورگھریلو تنازعات سے دور رکھنا ناگزیر/ ماہرین اطفال

سرینگر/کے پی ایس //موجودہ دورمیں جہاں دنیا ڈیجی ٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے اس میں بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے اور بچوں کی تربیت میں کسی قسم کا امتیاز برتنا ان کی ذہنی نشونماء کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ جبکہ ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ اس موجودہ موبائلائزیشن کے دور میں بچوں کے بہتر نشو نما کے خاطر جسمانی کھیل کود کی سرگرمیوں میں مشغول رکھنا اور گھریلوتنازعات سے دور رکھانانتہائی ضروری بن گیا ہے کیونکہ چھوٹے بچے بیٹھے بیٹھے موٹاپے کا شکار ہورے ہیں اور گھریلو تنازعات سے ذہنی کوفت کے شکار ہوجاتے ہیں ۔کشمیر پریس سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق بچے قدرت کا ایک انمول عطیہ ہیں جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں ان کی تڑپ دیکھ کر بچوں والے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انہیں کتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے۔شادی ہونے کے بعد جب عورت کویہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے تو اس کی خوشی قابل دید ہو تی ہے اس کا شوہر بھی اس خوشی میں اس کا ساتھ دیتاہے۔ماں بننے کے لیے تکلیف وہ مراحل سے گزر کر جب ایک معصوم ساوجود ماں کے ہاتھوں میں آتا ہے،تو وہ اپنی تمام تکالیف بھول جاتی ہے بچہ ماں کے جسم کا ایک حصہ ہوتا ہے جو اسے اپنی جان سے زیادہ پیارا ہوتاہے۔بچے کے دنیا میں آنے کے بعد ماں باپ کی توجہ اسی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔اس کی ہر آواز پر وہ لپک کر جاتے ہیں اس کی معمولی سی تکلیف کا درد وہ اپنے اندر محسوس کرتے ہیں اس کی پرورش خوشگوار ماحول میں ہوتی ہے۔ایک بچے کے بعد دوسرا بچہ بھی اس ماحول کا حصہ بننے آجاتا ہے جب دوسرا بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو بعض اوقات ماں باپ کی توجہ کی مرکز اب وہ دوسرا بچہ ہے ان کی محبت تقسیم ہو جاتی ہے پہلے بچے کو نظر انداز کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں والدین کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔بعض والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ دوبچوں کے درمیان میں کم از کم تین سال کا فرق تو ہو۔تین سال کا بچہ ماں باپ کی بدلی ہوئی نظر کو بخوبی پہچان سکتا ہے اس سلسلے میں کچھ والدین یہ رویہ بھی اپناتے ہیں کہ دوسرے بچے کی صرف ضرورت پوری کردیتے ہیں جبکہ پہلے بچے کو ہی اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھتے ہیں۔طریقہ جو بھی ہو اس میں ایک بچہ تو نظر انداز ہو رہا ہے۔بچے کا معصوم ذہن یہ نہیں سمجھ پاتا ہے کہ آخر اس نے ایسا کیا کیا ہے جو اس کے امی ابو اب اس کی بات نہیں سنتے،بچے یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ان کے گھر میں کوئی چھوٹا سا بچہ ہو لیکن جب وہ چھوٹا بچہ ان کے گھر آجاتا ہے تو اس کو ملنے والی توجہ سے وہ اس ننھے مہمان کو اپنا رقیب تصور کر لیتا ہے،ایسے وقت میں والدین کو محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔والدین دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی یہ طے کرلیں کہ انہیں آئندہ کس طرح دونوں بچوں کو سنبھالنا ہے اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات مفید ہو سکتے ہیں۔بچے کو آنے والے مہمان کے لیے راضی کریں:والدین پہلے تو خود کو ذہنی طور پر آمادہ کریں کہ اب ایک اور بچے کی ضرورت ہے پھر اپنے پہلے بچے کو سمجھائیں کہ اب تمہارا دوست آنے والا ہے۔اس کو کسی قریبی رشتے دار کی مثال دیں کہ وہ دیکھو گڑیا کا بھائی کتنا پیارا ہے یا سارہ کی چھوٹی سی گڑیا بہن ہے جو تمہارے ساتھ کھیلے گا،باتیں کرے گا اور بھائی جان کہے گا یا ایک بہن ہم لائیں گے اس کو پیار کرنا،اس کے کام کرنا وغیرہ وغیرہ۔دوسرے بچے کی پیدائش تک پہلے بچے کو اچھے انداز میں سمجھاتے ہیں۔اس سے چھوٹے چھوٹے کام لیں:پہلے بچے کو یہ سمجھائیں کہ مما کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔جب نوزائیدہ بچے کے کپڑے بدلیں تو بڑے بچے سے صاف کپڑے منگوائیں کہ جاؤ بیٹا سامنے سے وہ کپڑا لے آؤ یا گندے کپڑے ربن میں ڈلوائیں اسی طرح پاؤڈر اور لوشن کا ڈبہ منگوائیں یہ اشیاء پہلے سے ہی سامنے رکھیں۔جب بچہ یہ لادے تو ان کو پھر اوپر رکھیں تاکہ وہ والدہ کی غیر موجودگی میں خود سے استعمال نہ کرے اسی طرح دونوں کو توجہ ملے گی۔بچوں کو تعصب سے بچائیں:گھر میں دونوں یا تینوں بچے بڑے ہورہے ہیں اور یہاں والدین کو بہت ہو شیار ی سے کام لینا ہے بچے کی صنف ،رنگت ،شکل وصورت ،اسکول میں کار کردگی ،دوستوں کی تعداد وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کا بچوں پر بہت اثر پڑتا ہے۔بچے میں بڑوں کی خاموش نگاہیں پڑھ لینے کا ہنر ہوتا ہے کچھ نا سمجھ والدین شکل وصورت کی بنیاد پر بھی ایک بچے کو دوسرے بچے پر ترجیح دیتے ہیں۔ ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں بچوں کی صحت کی دیکھ بھال پہلے سے بہت زیادہ مشکل ہے کیوںکہ موجودہ دور میںبچے جسمانی کھیل کود کی سرگرمیوں سے دو ر رہے ہیں۔