ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

ملک کی خواتین بھارت کی تعمیر میں مردوں کے شانہ بشانہ

کووڈ دور میں کشمیر، اوڑیسہ، پنجاب، بنگال ، بہار اور دیگر شہروں میں مثالی خدمات انجام دیں

سرینگر//صدر ہند رام ناتھ کوند نے کہا ہے ملک کی خاتون نے مردوں کے برابر ہوکے ملک بھارت کی تعمیر میں رول اداکیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر سے لیکر ملک کے کسی بھی شہر میں اگردیکھا جائے تو وزیر اعظم کے وژن کے ساتھ خواتین کو بااختیار بنایا گیا ہے ۔ خواتین اب زندگی کے زیادہ چیلنج والے شعبوں میں داخل ہو رہی ہیں اور ایک بااثر قوت کے طور پر خواتین نے ملک میں کووڈ-19 سے نمٹنے میں مدد کیلئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہ بھارت کی جدوجہد آزادی سے ملک میں مرد وعورت کی برابری کی بنیاد رکھی گئی۔ انھوں نے اْن خواتین کے گراں قدر رول کو یاد کیا جنھوں نے نوآبادیاتی نظام سے آزادی کیلئے انتھک لڑائی لڑی۔صدر جمہوریہ آج تھیرووننتاپورم میں خاتون قانون ساز ارکان کی قومی کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد اظہار خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ہے ملک کی خاتون نے مردوں کے برابر ہوکے ملک بھارت کی تعمیر میں رول اداکیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر سے لیکر ملک کے کسی بھی شہر میں اگردیکھا جائے تو وزیر اعظم کے وژن کے ساتھ خواتین کو بااختیار بنایا گیا ہے ۔ صدر کووند نے کہا کہ خواتین اب زندگی کے زیادہ چیلنج والے شعبوں میں داخل ہو رہی ہیں اور ایک بااثر قوت کے طور پر خواتین نے ملک میں کووڈ-19 سے نمٹنے میں مدد کیلئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔انہوںنے بتایا کہ کشمیر کی خاتون ہوں ، پنجاب کی لیڈی ہو، بہاری ، بنگال یا اوڑیسہ کی عورتیں ہوں انہوں نے کووڈ کے دور میں کئی دشوار گزار اور گرم ترین علاقوں میں جاکر انسانیت کی خدمت کی ہے ۔کیرالہ کی خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے اِس بات کا ذکر کیا کہ آئین ساز اسمبلی کی پندرہ خواتین میں سے تین کا تعلق کیرالہ سے تھا۔ کیرالہ قانون ساز اسمبلی کمپلیکس میں کیرالہ کے گورنر عارف محمدخان نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پر ریاست کے وزیراعلیٰ، ان کی وزراتی کونسل کے ارکان، اسپیکر ایم بی راجیش، اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستیشن اور ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ اپنی نوعیت کی اِس پہلی کانفرنس میں مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والی خاتون ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی اور اسپیکرس شرکت کررہی ہیں۔