ملک میں 79فیصد لوگ معاشی اوراقتصادی کی بد حالی میں مبتلا

سرینگر / /اقتصادی ماہرین نے اس بات انکشاف کیاہے کہ ملک میں 79%لوگوں کی معاشی اور اقتصادی حالت ابتر صورتحال سے گزررہی ہے پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کومزیدپریشانیو ں کاسامنا کرنا پڑ رہاہے ۔ڈیزل پیٹرول کوجی ایس ٹی کے لانے کا حکومت کومشورہ دیتے ہوئے ماہرین نے کہاکہ اسس سے عام لوگوں کوراحت مل پائیگی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کوبھی قابو میں رکھنے کے مواقعے پیدا ہونگے ۔اے پی آ ئی کے مطابق ملک کے 50سے زیادہ اقتصادی ماہرین نے کروناوائرس کی وبائی بیماری کی وجہ سے ملک کی معاشی اوراقتصادی حالت کودھچکالگنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو برسوں کے دوران کروناوائرس کی وبائی بیمای نے ملک میں ایک کروڑ 62لاکھ لوگوں کی نوکریاں چھین لی جبکہ ملک میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کی تعداد میں 12-14%کااضافہ کردیاہے ۔اقتصادی ماہرین کے مطابق ملک میں اس وقت صرف تین فیصد لوگ سرمایہ دارہے، جبکہ 20-25%لوگ متوستہ طبقے سے تعلق رکھتے ہے اور ایسے کنبے بھی بڑی مشکلوں سے اپنی ضروریات کوپوراکررہے ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق مجموع طو پر79%لوگ معاشی اور اقتصادی ابتر صورتحال سے گزررہے ہے بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جن کی معاشی حالت درآمداداوربرآمدادپرمنحصر ہے جوپچھلے ڈیڑھ برس سے متاثر ہو ئی ہے اورسرکارصرف ٹیکسوںکی بنیاد پرکام چلارہی ہے اوراگرصوتحال میں بہتری نہیں آ ئی تو آ نے والے مہینوں کے دوران معاشی اور اقتصادی طور پرلوگوں کومزید مشکلوں کاسامناکرنا پڑے گا۔ اقتصادی ماہرن نے کہاکہ وپیک ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیاجارہاہے جسکے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پرتیل کی کھپت خپت میں کمی آتی جارہی ہے اور ضرورت مندممالک او پیک ملکوں کے ناز نکھرے اٹھانے پرمجبور ہورہے ہے ۔اقتصادی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پراس وقت تیل فی ڈالر70-76ڈالرمیں فروخت ہورہاہے جو اب تک کی سب سے بڑی قیمت ہے۔ ماہرین نے سرکار کومشورہ دیاکہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کوجی ایس ٹی کے دائرے میں لائے تاکہ ایک ہی بار ٹیکس پیٹرول ڈیزل استعمال کرنے والوں کواداکرنے پڑے اور تیل کمپنیوں کوجوکھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اس سے ملک میں پیٹرول اورڈیزل کی قیمتیں آسمان کوچھورہی ہے جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے سے عام انسان کو20-25روپے تک کافائدہ ملے گا اور اس سے مہنگائی کوقابو کرنے میں مددمل پائیگی ۔ماہرین کے مطابق پچھلے تین برسوں سے فی کس آمدانی میں گراوٹ آتی جاتی ہے اوردوسری جانب کساد بازاری جوبن پرہے جسکی وجہ سے عام انسان کوپریشانیوں سے گزرنا پڑ رہاہے ۔اقتصادی ماہرین نے سرکار سے مطالبہ کیاکہ ممکنہ وبائی بیماری کی تیسری لہرسے پہلے ملک کے عوام کومعاشی اوراقتصادی لحاظ سے راحت دلانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے تاکہ نازک وقت میں لوگوں کوپریشانیوں کاسامنا ناکرناپڑے۔