In every state of the country, cyber criminals are preying on common people. Union Minister Ajay Kumar

ملک میں سائبر کرائم میں تشویشناک حد تک اضافہ

ملک کی ہر ریاست میں سائبر مجرم عام لوگوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ مرکزی وزیر اجے کمار

سرینگر//ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی سائبر فراڈ یا سائبر کرائم کے معاملات بڑھ رہے ہیں ۔ مرکزی وزیر مملکت اجے کمار مشرا نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں سائبر کرائم کی صورتحال سنگین ہے ۔ تاہم یوپی پہلے نمبر پر ہے اور جموں کشمیر سے متعلق ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ملک میں سائبر کرائم میں ہو رہے اضافے سے صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے، حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم کے سب سے زیادہ واقعات اتر پردیش میں ہو رہے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق موجودہ ڈیجیٹل دور میں سائبر کرائم عام لوگوں کے ساتھ اب اس کے روک تھام کرنے والوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ملک کی ہر ریاست میں سائبر مجرم عام لوگوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ اس میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 23-2022 میں سائبر فراڈ سے متعلق ملک بھر میں 11.28 لاکھ کیس رپورٹ ہوئے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق لوک سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ بتایا گیا کہ 23-2022 میں سب سے زیادہ سائبر کرائم اتر پردیش میں ہوئے ہیں۔ اس دوران یوپی میں 2 لاکھ لوگوں کے ساتھ سائبر فراڈ ہوا۔ سائبر ٹھگوں نے اس دوران یوپی میں 721.1 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی۔اترپردیش کے بعد سب سے زیادہ سائبر کرائم کے معاملے مہاراشٹر اور پھر گجرات میں ہوئے ہیں۔ اتر پردیش میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے 16 اضلاع میں سائبر پولیس اسٹیشن چلائے جا رہے ہیں۔ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے اعلیٰ افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان سائبر ٹھگوں کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ برائے مملکت کے ذریعے پارلیمنٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق 23-2022 میں سائبر فراڈ سے متعلق ملک بھر میں 11.28 لاکھ کیس رپورٹ ہوئے۔ان کیسیس میں سے نصف کیس صرف 5 ریاستوں میں درج ہوئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 2 لاکھ کیس اتر پردیش میں درج کیے گئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر مہاراشٹر میں 1 لاکھ 30 ہزار، تیسرے نمبر پر گجرات میں 1 لاکھ 20 ہزار، چوتھے اور پانچویں نمبر پر راجستھان اور ہریانہ تقریباً 80-80 ہزار کیس درج ہوئے۔ سائبر فراڈ میں اضافے کی وجہ لوگوں میں اس تعلق سے بیداری کی کمی بتائی جا تی ہے۔ بیداری لانے کی تمام ترمہمات اور دھوکہ دہی کے ہو رہے واقعات کے باوجود لوگ اب بھی نامعلوم لوگوں کے ساتھ OTP شیئر کرکے نقصان اٹھا رہے ہیں۔عام طور پر لوگ نامعلوم نمبروں سے بھیجے گئے ایس ایم ایس، واٹس ایپ یا میل کے ذریعے موصول ہونے والے لنک پر کلک کرکے ان شاطروں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق لوگ سب سے زیادہ سائبر فراڈ کے شکار دوستی کے نام پر جنسی استحصال کے ذریعے ہوتے ہیں جس میں یوپی پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر جعلی پروفائل بنا کر فراڈ کیا جا رہا ہے۔ اے ٹی ایم کلوننگ کے آن لائن فراڈ اور سائبر فراڈ کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ’میٹرومونیل سائٹ‘ کے ذریعے نائجیرین گینگ فراڈ کرتے ہیں۔ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔کسی نئی سرکاری اسکیم کے بارے میں معلومات اور فائدہ دینے کے نام پر بھی فراڈ کے کئی معاملات درج ہوئے ہیں۔ فل ٹائم ملازمت اور پارٹ ٹائم ملازمت کے نام پر لوگوں سے روزانہ لاکھوں روپے کا فراڈ کیا جاتا ہے۔ اب آرٹیفیشل انٹلیجنس (اے آئی) کے اس دور میں تو پولیس کے اعلیٰ حکام کی جعلی ویڈیوز کے ذریعے ڈرا دھمکا کر بھی لوگوں سے وصولی کی جا رہی ہے۔ سائبر کرائم کے مرکز کے طور پر مشہور جھارکھنڈ کے جام تاڑا اور نوح سے زیادہ یہ سائبر فراڈ اب متھرا اور نوئیڈا سے ہو رہے ہیں۔ اے آئی کے ذریعے وائس کلوننگ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینے کے واقعات میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔