منور احمد
اُردو صحافت نے اپنے دو سالہ سفر مکمل کرلیا ہے۔اس دو سو سالہ سفر میں اُردو نے جدوجہد آزادی سے لیکربھارت کی ترقی، بھارت میں امن وامان بھائی چارہ اور شانتی کو قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ،جو گولڈن الفاظ میں درج ہیں۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے پورے بھارت میں اُردو بھاشا کو لیکر انفرادی اور اجتماعی طور پرجو کام ہونا تھا نہیں کیاجارہا ہے اوراُردو زبان زبوں حالی کا شکارہوچکی ہے۔
اسی طرح کا ایک معاملہ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں حمیدیہ آرٹس اور کامرس کالج میں پیش آیاتھا، جہاں شعبہ اُردو میں ہائرایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ ایم اے اُردو کی ۵۰ سیٹ میں سے کم کرکے ۱۰کردی گئی تھیں۔ہونا تو یہ تھا کہ ایم اے اُردو کی پچاس سیٹوں کو بڑھاکر ۱۰۰ کردیا جائے لیکن اسی پچاس سیٹوں کو کم کرکے ۱۰کردیا گیا ۔جس سے ایم اے اُردو میں ایڈمیشن لینے والے طلباء کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔اس کی خبر ملتے ہی شہر کے سماجی خدمت گار ادارے اویوڈاسمائل فائونڈیشن اور بزم ضیاء تنظیم کی قیادت میں ایک وفد نے مدھیہ پردیش حکومت کے اعلیٰ تعلیم کے کمشنر سے ملاقات کر ایم اے اُردو کی سیٹیں بڑھانے کے مطالبے کو لیکر عرضداشت سونپی، اس پر محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمشنر نے موقع پر ہی اُردو ایم اے میں ایڈمیشن لینے والے طلبا کی تعداد کو دھیان میں رکھتے ہوئے سرکاری حمیدیہ کالج میں ایم اے اُردو کی سیٹوں کو دس سے بڑھاکر تیس سیٹ کردیا ہے۔اس کیلئے بزم ضیاء اوراو یوڈاسمائل فائونڈیشن قابل مبارکباد ہیں۔ اس کے ساتھ ہی راجدھانی بھوپال کے دوسرے کالجوںمیں طلباء وطالبات ایم اے اُردو سے اسٹڈی کررہے ہیں ان میں بھی احکام جاری ہونے تک جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔
مدھیہ پردیش کی تمام ایسی تنظیمیں جو اُردو کی بقاء وفروغ کیلئے کام کررہی ہیں ان تمام کو ایک ساتھ جڑکر کام کرنا چاہئے ۔ریاست بھر میں اُردو اسکولوں ،کالجوں ،یونیورسٹیوں اور اُردو اداروں میںجو سیٹیں خالی ہیں اس کو بھر نے کے لئے بھی مطالبہ کرنا چاہئے۔
برکت اللہ یونیورسٹی کو سینٹرل یونیورسٹی بنانے کے لئے گزشتہ کئی سالوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے ، جس پر ابھی تک حکومت نے اپنا ردعمل نہیں دیا ہے اورنہ ہی اُردو ڈپارٹمنٹ کھولا گیا ہے۔
وہیںجھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد سے ہی اُردو زبان و ادب کی ترقی کے تئیں کبھی بھی کوئی حکومت سنجیدہ نہیں رہی ہے۔ ریاست کی تشکیل کو تقریباً 22 سال کا عرصہ ہو نے جارہا ہے لیکن اب تک جھارکھنڈ اردو اکیڈمی کا قیام عمل میں نہیں آیا ہے۔ ریاست کے اُردو اسکولوں کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُردو اسکولوں میں معقول تعداد میں نہ تو اُردو اساتذہ ہیں اور نہ ہی انگریزی کو چھوڑ کردیگر مضامین کی کتابیں اُردو زبان میں دستیاب نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے اُردو کے طلباء دیگر زبان کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کئی اُردو اسکولوں میں اُردو کے استاد ہی نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں کئی اُردو اسکولوں کا ہندی اسکولوں میں انضمام ہو گیا ہے۔جس کو لیکرعوام نے اُردو زبان، اُردو اسکول اور اُردو اساتذہ کے تئیں غیرسنجیدہ رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سال 2008 میں اُردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے تعلق سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا لیکن اب تک اس کا عملی نفاذ نہیں ہوا ہے۔ اُردو اکیڈمی کی عدم موجودگی کی وجہ سے شعراء، ادباء اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی بھی نہیں ہو پا رہی ہے جس کے سبب ان کی تخلیقات بھی منظر عام پر نہیں آ پا رہی ہیں۔
تقریباً تمام ریاستوں میں اُردو اکیڈمی ہے لیکن ان اداروں میں بھی صرف شعروشاعری اور مقالے پڑھے جارہے۔ان اداروں سے بھی اُردو کی بقاء وفروغ کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔
چھتیس گڑھ کی سابقہ حکومتوں نے تو کوئی بھی کام نہیں کیالیکن بگھیل سرکارسے امیدیں تھیںکہ بگھیل سرکار اقلیتوں کے جتنے مسائل ہیں جیسے حج ہائوس بنانا،خواجہ غریب نواز یونیورسٹی کا قیام اور وقف کی زمینوں کومحفوظ کرنا وغیرہ وغیرہ اس پرکام کریںگے لیکن بگھیل سرکار بھی کوئی کام نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے بھوپیش بگھیل سرکار کو بے۔ نظیر انصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی نے خط بھی لکھا جس پر بگھیل سرکار کی جانب سے کوئی ردعمل نہیںملا ۔وہیںراجستھان کی سابقہ حکومت سے تو کوئی امید نہیں تھی لیکن اشوک گہلوت سرکار نے بھی اُردو کی بقاء وفروغ کے لئے کوئی مثبت اقدامات نہیں کئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں سابق ممبرپارلیمنٹ وسابق وزیرمسٹرنواب زادہ اے۔اے ۔خان(درّو)نے مسلسل کئی بات خط لکھ چکے ہیں،جس پرگہلوت سرکار نے اپنا ردعمل نہیں دیا ہے۔اسی طرح بہار ،بنگال ، جھارکھنڈ جیسے ریاستوں میں جن سے امید کی جاسکتی ہے ،وہ بھی اُردو کی بقاء وفروغ کے لئے کوئی مثبت فیصلے نہیںلی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اُردو کی پیدائش بھارت میں ہوئی ہے اور یہ زبان آج دنیا بھر میں بولی جاتی ہے یہی نہیں آج یہ زبان یواین او کی بھی دفتری زبان بن گئی ہے،لیکن بھارت کی زبان کو بھارت میں ہی اندیکھی اور تعصبانہ رویہ سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ یہاں تک کہ خود اُردو داں بھی اُردو کو لے کر بے حس ہوچکے ہیں۔
مرکزی وریاستی حکومتوں سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دیگر زبانوں کی بقاء وفروغ کے لئے جس طرح مالی تعاون دے رہے ہیں اُردو کو بھی دیا جائے، اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تقرری کی جائیں۔بھارت بھر میںاُردو ٹیچروں کی لاکھوں خالی سیٹیںہیں اس کو پر کیا جائے اور نصاب کی تمام کتابوں جیسے سائنس ،میتھامیٹکس اورٹیکنالوجی کی کتابیں اُردو زبان میں مہیا کرائے۔
اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں جتنے بھی ادارے اُردو کی بقاء وفروغ کے لئے کام کررہے ہیں ، ان کو چاہئے کہ ایک ساتھ جڑکر کام کریں۔سرکار سے اور اداروں سے اُردو کی بقاء وفروغ کے جو ضروری کام ہیں کرائے۔










