farooq abdullah

ملک بھر میں کشمیریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے سے گریز کیا جائے

مختلف ریاستوں میں مقیم کشمیری طلبا اور تاجروں کا تحفظ کو یقینی بنایا جائے / ڈاکٹر فاروق

سرینگر / سی این آئی // لال قلعہ دھماکوں کی تحقیقات کی آڑ میں بے گناہ اور معصوم شہریوں کو ہراساں اور پریشان کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے کی بات کرتے ہوئے صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ہر ایک کشمیری کو شک کی نگاہ سے دیکھنے سے بھی اجتناب کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور ملک کی تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں زیرِ تعلیم، کاروبار ، مزدوری یا ملازمت کے سلسلے میں مقیم کشمیریوں کے جان و مال کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائیں اور انہیں شک کی نگاہ سے دیکھنے سے گریز کیا جانا چاہئے۔ سی این آئی کو ارسال اپنے ایک بیان میں صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کشمیری نوجوان بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی خطرناک صورتحال، امتیازی رویے یا ہراسانی کے واقعات ان کے لئے شدید ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر ی ایک امن پسند قوم ہے اور کسی ایک فرد کے کرتوتوں کی سزا پورے سماج کو نہیں ملنی چاہئے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ امن و ہم آہنگی کے ماحول کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں، متعلقہ انتظامیہ کو ہدایات دی جائیں کہ کشمیری طلبہ اور شہریوں کی حفاظت، سہولیات اور حقوق کا خاص خیال رکھا جائے، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو نفرت یا اشتعال پھیلانے کے مرتکب ہوں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ حکومتِ ہند کشمیریوں کے جائز تحفظاتی تقاضوں کو سنجیدگی کے ساتھ لے کر ملک کے ہر حصے میں ان کے لئے ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرے گی۔