سرینگر / /فوج کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل ایم ایم نروانے نے واضح کر دیا کہ بھارت پاکستان کے کسی بھی چلینج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور اگر جارحیت کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ دراندازی صفر تک پہنچ گئی ہے کیوں کہ سرحدوں پر تعینات فوج چوکس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی پر ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں جس سے دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی جاتی ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نئی دہلی میںایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل ایم ایم نروانے نے کہا کہ جب ملک کی فوج مضبوط ہو تب ہی جاکر عوام بھی محفوظ ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو ہر سطح پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ فوج کے لئے کسی بھی جگہ کسی بھی طرح کوئی بھی کارروائی کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ فوج وادی کشمیرمیں بھارتی فوج کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور بہت جلد وادی کشمیر جنگجوئوں سے پاک قراردیا جائے گا۔نروانے نے کہا کہ پاکستان اور اس کے معاونین جو کشمیر میں موجود ہیں فوج کی کامیاب کارروائیوں سے بہت مایوس ہوچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران فوج انسانی حقوق کی پاسداری پر مکمل عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں سیل کیجولٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ فوج صرف ایک آواز پر کارروائی کرنے کیلئے تیار ہے ۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ فوج ایک حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہے اور ہماری پہلی کوشش یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کسی بھی طرح کی دراندازی پر قابو پانا ہے اور اس میں فوج بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ دراندازی صفر تک پہنچ گئی ہے کیوں کہ سرحدوں پر تعینات فوج مستعد اور چوکس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی پر ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں جس سے دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی جاتی ہے۔ نروانے نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے بندوق اْٹھانے کے رجحان میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ بندوق اْٹھانے کا مطلب موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔ انہوںنے کشمیری نوجوانوں کے بارے میں کہاہے کہ کشمیری نوجوان کافی ذہین اور محنتی ہیں ان کو نہیں چاہئے کہ وہ کسی بہکاوے میں آکر ہتھیار یا پتھر اْٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کشمیری نوجوان ریاست کی تعمیر و ترقی کیلئے اور امن کی فضاء قائم کرنے کیلئے مین سٹریم میں شامل ہوکر اپنا مستقبل سنواریں گے۔










