ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے ملازمت تبدیل کرنے والوں کے لیے پی ایف اکاؤنٹ ٹرانسفر کے عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اب کسی بھی ملازم کو نوکری بدلنے پر ای پی ایف اکاؤنٹ منتقل کرانے کے لیے منزل یعنی نئے ادارے کے دفتر کی منظوری کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ صرف سابق دفتر (سورس آفس) کی منظوری ہی کافی ہوگی۔
ای پی ایف او نے جمعہ کو ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے فارم 13میں تبدیلی کی ہے۔ اس قدم کے تحت، اب ایک بار جب سورس آفس کی طرف سے کلیم منظور کر لیا جائے گا، تو اکاؤنٹ خودکار طریقے سے نئے دفتر کے ساتھ جُڑے ای پی ایف او اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے گا۔
ای پی ایف او نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد اکاؤنٹ ٹرانسفر کے عمل کو تیز اور سہل بنانا ہے۔ نئے اصولوں کے مطابق، اب ڈیسٹینیشن آفس کی منظوری کی ضرورت ختم کر دی گئی ہے۔ اس کے لیے ای پی ایف او نے فارم 13 کے سافٹ ویئر کو بھی نئے انداز میں پیش کیا ہے تاکہ سارا عمل ڈیجیٹل اور شفاف ہو جائے۔
اس فیصلے سے ملک بھر کے تقریباً 1.25 کروڑ ای پی ایف او اراکین کو فائدہ پہنچے گا۔ ہر سال قریب 90 ہزار کروڑ روپے کے پی ایف فنڈز ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کیے جاتے ہیں۔ نئے نظام سے یہ عمل نہ صرف تیز ہوگا بلکہ ملازمین کے لیے پریشانی سے پاک بھی ہوگا۔صرف یہی نہیں، ای پی ایف او نے یو اے این (یونورسل اکاؤنٹ نمبر) جاری کرنے کے عمل کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ اب آجر (ایمپلائرز) کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ آدھار کی کچھ شرائط میں نرمی کے بعد، اپنی کمپنی کی آئی ڈی اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر بلک میں یو اے این جاری کر سکیں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملازمین کے پی ایف اکاؤنٹس میں جلد از جلد رقم جمع ہو سکے اور ان کے مستقبل کی مالی منصوبہ بندی متاثر نہ ہو۔
ای پی ایف او مسلسل اپنے سسٹمز کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے تاکہ نہ صرف ممبرز بلکہ آجرین کو بھی سہولت ملے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کے ذریعے پی ایف کے تمام امور کو تیز رفتار اور شفاف بنانے کے لیے پرعزم ہے۔یہ نیا قدم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بڑی راحت لے کر آیا ہے جو نجی شعبے میں کام کرتے ہیں اور اکثر ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں ملازمت تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اب انہیں بار بار پی ایف اکاؤنٹ ٹرانسفر کے لیے کسی دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے، بلکہ سارا عمل آسانی سے آن لائن مکمل ہو جائے گا۔










