مقامی ماہی گیروں کی زندگی کی مشکلات

بانڈی پورہ کی کنیاری بستی حکومتی عدم توجہی سے بنیادی حقوق سے محروم

سرینگر//کنیاری نائد کھے میں واقع ماہی گیروں کی بستی، ضلع بانڈی پورہ کے سوپور روڑ پر، کسی جنگ زدہ علاقے کی منظر کشی کرتی ہے۔ 400 گھروں پر مشتمل اس بستی کی ویرانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جدید دور کی سہولیات سے بے بہرہ ہے۔ وی او آئی کے مطابق قریب 2,000 افراد پر مشتمل اس علاقے میں داخل ہونے کے بعد انسان کو بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔علاقے میں بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی نمایاں ہے، جہاں خستہ حال سڑکیں سفر کرنے کو پل صراط کے برابر بنا دیتی ہیں۔ لوگ بوسیدہ لکڑی اور ٹین سے بنے مکانوں میں رہتے ہیں، جبکہ بیت الخلا پالی تھین اور بوریوں سے بنے ہوئے ہیں۔ طبی سہولیات کے لیے کشتی کے ذریعے کئی کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے، اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کی حالت بھی انتہائی خستہ ہے۔ کئی دنوں کے بعد پانی ٹینکروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔مقامی افراد، جنہیں غربت نے جکڑ رکھا ہے، بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ مقامی باشندے بشیر احمد کے مطابق، اگرچہ ملک بھر میں سوچھ بھارت ابھیان کے تحت بیت الخلا کی تعمیر کی گئی، مگر اس بستی میں حالات آج بھی 60 سال پہلے کی طرح ہیں۔فاروق احمد، مقامی مسجد کے منتظم، نے بتایا کہ حکومت نے 5 مرلہ اراضی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر آج تک کوئی اقدام نہیں ہوا۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کیا، مگر وہ بھی اب خستہ حال ہو چکی ہے۔ سردیوں میں یہ سڑک پانی میں ڈوب جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ محصور ہو جاتے ہیں۔سابق سرپنچ محمد شفیع ڈار نے بتایا کہ اگر شام کے وقت کوئی بیمار ہوتا ہے تو کشتی میں 2 کلومیٹر کا سفر کر کے انہیں سوپور پہنچنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکام کے سامنے اپنے مسائل پیش کیے، مگر کوئی حل نہیں نکلا۔ مقامی لوگوں نے حالیہ انتخابات میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ووٹ کا بائیکاٹ کیا، مگر انتظامیہ ابھی تک بے خبر ہے، جبکہ لوگوں کی امیدیں اب بھی زندہ ہیں۔