’مغل اعظم‘ کی شوٹنگ کے دوران جب پرتھوی راج کپور کے پاؤں پر چھالے بن گئے

یہ بالی وڈ کی کلاسیکی فلم ’مغلِ اعظم‘ کی شوٹنگ کا ایک منظر ہے۔ پرتھوی راج کپور مغلِ اعظم کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ سیٹ پر موجود ہیں اور آرام کرسی پر چائے کے سپ لے رہے ہیں اور سگریٹ پی رہے ہیں۔جب فلم کے ہدایت کار کے آصف ان سے فلم کا شاٹ کرنے کے لیے تیار ہونے کا کہتے ہیں تو وہ میک اَپ روم کا رُخ کرتے ہیں اور کہتے ہیں، ’پرتھوی راج کپور اب جا رہا ہے‘ اور وہ جب تیار ہو کر باہر آتے ہیں تو کہتے ہیں، ’اکبر اب آ رہا ہے۔‘ یہ 1951 کی بات ہے جب راج کپور شہرہ آفاق فلم ’آوارہ‘ پر کام کر رہے تھے جس میں راج کپور کے علاوہ ان کے والد پرتھوی راج کپور اور دادا دیوان بشیشوار ناتھ کپور بھی کردار ادا کرتے نظر آئے۔یہ سنیما کی تاریخ کی غالباً ایسی پہلی فلم تھی جس میں تین نسلوں نے ایک ساتھ کام کیا۔ 1971 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کل، آج اور کل‘ میں پرتھوی راج کپور، راج کپور اور ان کے صاحب زادے رندھیر کپور نے ایک ساتھ کام کیا۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو سینما کی تاریخ میں صرف کپور خاندان کو ہی حاصل ہوا۔پرتھوی راج کپور نے انڈین سینما کی پہلی بولنے والی فلم (ٹاکی) ’عالم آرا‘ میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم وہ اس سے قبل 1927 میں خاموش فلموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کر چکے تھے۔ضلع فیصل آباد (لائلپور) کے قصبے سمندری سے تعلق رکھنے والے پرتھوی راج کپور کا خاندان پنجابی تھا اور وہ آج کے دن ہی تین نومبر 1906 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدا میں تعلیم بھی فیصل آباد کے ایک کالج سے ہی حاصل کی جس کے بعد وہ خاندان سمیت پشاور منتقل ہو گئے۔پرتھوی راج کپور محض 18 برس کے تھے جب وہ باپ بن گئے اور انہوں نے اپنے بیٹے کا نام راج کپور رکھا جو آنے والے برسوں میں بالی وڈ کے نمایاں اداکار اور ڈائریکٹر کے طور پر مشہور ہوئے جنہیں بالی وڈ کا شومین (Show Man) بھی کہا جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب ’تقسیم سے قبل کے پنجاب کی انڈین سنیما کے لیے خدمات‘ (Pre-Partition Punjab’s Contribution to Indian Cinema)) میں شامل ایک مضمون کے مطابق، راج کپور نے سٹار ڈسٹ میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ وہ ’سمندرو‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد مزید لکھتے ہیں، ’میں یہ جان گیا کہ یہ لفظ غلط لکھا گیا تھا جس کے باعث مجھے راج کپور کو خط لکھنے کا بہانہ مل گیا۔‘پرتھوی راج کپور ایک طویل عرصہ تھیٹر سے وابستہ رہے اور 1944 میں انہوں نے پرتھوی تھیٹر کے نامی سے ایک کمپنی قائم کی جو مختلف شہروں میں جاکر تھیٹر کیا کرتی تھی لیکن 1960 میں پرتھوی راج کپور نے اپنی یہ کمپنی اس لیے بند کر دی کیوں کہ ان کے لیے اس تھیٹر کمپنی کو چلانا مشکل ہو گیا تھا۔یہ تھیٹر گروپ بند ضرور ہوا مگر بالی وڈ کے معروف اداکار ششی کپور اور ان کی اہلیہ جنیفر کپور نے اپنے والد کی یاد میں ممبئی میں تھیٹر ہال تعمیر کیا جس نے بالی وڈ کے بہت سے نئے اداکاروں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔اس تھیٹر کی تعمیر کا قصہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کیوں کہ ششی کپور نے اسے بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ اپنے والد کے اپنا تھیٹر ہال بنانے کے تشنہ خواب کو پورا کر سکیں جس پر ان کے بھائی راج کپور نے ان کو ’ٹیکسی‘ کی عرفیت سے نوازا کیوں کہ وہ ہمہ وقت سفر میں رہتے تھے۔

کیٹاگری میں : صحت