کشیدگی میں کمی کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ // وزیر اعظم نریندر مودی
سرینگر//یو این ایس / مغربی ایشیا میں گیس اور توانائی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد بھارت نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے اور فوری طور پر انہیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عمان، اردن، فرانس اور ملائیشیا کے اعلیٰ رہنماؤں سے رابطہ کیا اور امن کی جلد بحالی پر زور دیا۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق مغربی ایشیا میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ عالمی توانائی منڈی کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں کیونکہ یہ کشیدگی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔حالیہ پیش رفت میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک، خصوصاً قطرکے اہم ایل این جی مرکز راس لفان کو نشانہ بنایا۔ قطر بھارت کی ایل این جی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا ہے، جس کے باعث یہ صورتحال بھارت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق ان حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیش نظر۔وزیراعظم مودی نے میکران ایمنل،ابرہیم انور اور اردن کے شاہ عبداللہII سے بات چیت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔انہوں نے عمان کے سلطان کے ساتھ گفتگو میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری نقل و حرکت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے یہ راستہ انتہائی اہم ہے۔ادھر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکرنے بھی اسرائیلی ہم منصب سے رابطہ کیا اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے حکام سے ملاقات میں وہاں مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت پر زور دیا۔بھارتی حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث کئی بھارتی ملاح بھی مختلف جہازوں پر پھنس گئے ہیں، جن کی بحفاظت واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔عالمی لیڈروںنے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام بحال ہو سکے۔










