بھارت ہر ممکن ذریعے سے تیل و گیس حاصل کرنے میں مصروف // وزیر اعظم نریندر مودی
سرینگر/یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز راجیہ سبھامیں کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کو سنگین بنا دیا ہے، اور بھارت حکومت ہر ممکن ذریعہ سے خام تیل اور قدرتی گیس کی خریداری کر رہی ہے تاکہ ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت خطے میں امن چاہتا ہے اور تمام مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی ترجیح تنازعہ میں کمی (ڈی-ایسکلیشن) اور عالمی اہم بحری راستے آبناے ہرمز کی بحالی ہے، کیونکہ اس کی بندش عالمی تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ حکومت نے مغربی ایشیا بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سات بااختیار گروپس تشکیل دیے ہیں۔ یہ گروپس اہم شعبوں جیسے کہ ایندھن، ڈیزل، قدرتی گیس، کھاد، سپلائی چین اور مہنگائی پر فوری اور طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ ایک بین الوزارتی گروپ پہلے ہی فعال ہے، جو درآمد و برآمد سے متعلق مشکلات کا مسلسل جائزہ لیتا ہے اور حل کے لیے مستقل بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔وزیر اعظم نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے ریاستی حکومتوں کو سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر پہلو پر جامع حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ اس بحران کے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اثرات سے نمٹا جا سکے۔وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ اگر مغربی ایشیا بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو اس کے سنگین اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن حکومت مکمل طور پر چوکس اور مستعد ہے۔انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ہر ممکن چیلنج کے لیے تیار رہیں۔کسانوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ فصلوں کے لیے کھاد کی مناسب فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ زرعی پیداوار متاثر نہ ہو۔توانائی کے حوالے سے وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ 11 برسوں میں بھارت نے 53 لاکھ میٹرک ٹن اسٹریٹجک آئل ذخائر قائم کیے ہیں، اور مزید 65 لاکھ میٹرک ٹن کی اضافی گنجائش پر کام جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملکی توانائی کی حفاظت ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت ہر ممکن اقدام کر رہی ہے، اور جیسے کہ کووڈ-19 وبا کے دوران مختلف شعبوں میں بااختیار گروپس بنائے گئے تھے، اسی طرح یہ سات نئے گروپس بحران کے دوران ہر اقدام کی نگرانی کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بحران کے باوجود ملک کی مضبوط اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے تحفظ، توانائی سلامتی، خوراک اور زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔انہوں نے عوام اور کاروباری طبقات سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور موجودہ عالمی اور خطائی حالات میں حکومتی اقدامات پر اعتماد رکھیں۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ بھارت خطے میں امن چاہتا ہے، تمام فریقین کو مذاکرات کے لیے آمادہ کر رہا ہے، اور کسی بھی کشیدگی کی صورت میں بھارت کی حکمت عملی مکمل طور پر محتاط اور منصوبہ بندی شدہ ہے۔










