معمول سے پہلے گرمی! پنجاب، ہریانہ اور دہلی کے درجہ حرارت میں اضافہ، ہولی کے آس پاس بلے گا موسم

معمول سے پہلے گرمی! پنجاب، ہریانہ اور دہلی کے درجہ حرارت میں اضافہ، ہولی کے آس پاس بلے گا موسم

ملک کے کئی حصوں میں گرمی نے دھیرے دھیرے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ موسم کی پیشن گوئی کرنے والی ایجنسی ’اسکائی میٹ ویدر‘ کے مطابق شمالی میدانی علاقے عام طور پر پری مون سون سیزن کی طرف منتقلی کے دوران سب سے آخر میں گرم ہوتے ہیں لیکن اس بار گرمی کے اثرات ابھی سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ درجہ حرارت دن اور رات کے وقت 2 ہندسوں پر پہنچ رہا ہے۔ اگرچہ عام طور پر یہاں مارچ کے اوائل تک ہلکی سردی رہتی ہے۔ راجستھان، ہریانہ اور پنجاب کے کئی حصوں میں بھی کم از کم درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔ مغربی راجستھان میں کم سے کم درجہ حرارت 15 سے 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جس سے گرمی کے اثرات محسوس کئے جارہے ہیں۔ ہریانہ کے زیادہ تر حصوں خاص طور پر جنوبی علاقہ اور راجستھان سے متصل علاقوں میں کم از کم درجہ حرارت 11-14 ڈگری تک ریکارڈ ہورہا ہے۔ پنجاب میں بھی بعض مقامات پر کم سے کم درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
اسی طرح ملک کی راجدھانی دہلی میں بھی درجہ حرارت میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ آئی ایم ڈی کےعلاقائی موسمیاتی مرکز، نئی دہلی کے مطابق کل دہلی (صفدرجنگ) میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے پہلے 16 فروری 2026 کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافہ کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اسکائی میٹ ویدر کے مطابق اس بار پری مانسون کی طرف منتقلی معمول سے پہلے ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ آئندہ تقریباً ایک ہفتے تک کسی فعال مغربی طلاطم نظر نہیں آرہا ہے۔ ہولی کے آس پاس پہلے ایک نیا نظام نمودار ہونے کا امکان ہے جو بنیادی طور پر پہاڑی علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ نچلی سطح کی ہوائیں تیز اور خشک رہیں گی جو پری مون سون کے آغاز کا اشارہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ معمول سے پہلے اس بار سردی سے راحت مل سکتی ہے۔