sajad lone

معاملہ معاشی طور پر کمزور طبقے کا

سجاد غنی لون کی جانب سے معیار پر نظرثانی کا مطالبہ

سرینگر//یو این ایس// سابق وزیر اور پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملازمتوں اور تعلیمی داخلوں میں ریزرویشن کے لیے اکنامکلی ویکر سیکشن (معاشی طور پر کمزور طبقہ جات) کے معیار پر نظرثانی کرے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک بیان میں لون نے کہا کہ وادی کشمیر میں بی پی ایل آبادی جموں کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم حالیہ کشمیر انتظامی سروس امتحان میں ای ڈبلیو ایس زمرے کے تحت منتخب ہونے والے 9 امیدواروں میں سے صرف ایک کا تعلق وادی سے تھا۔انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بی پی ایل آبادی کی تعداد تقریباً 37.71 لاکھ ہے جبکہ جموں میں یہ تعداد 29.81 لاکھ ہے، اس کے باوجود ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کے اجرا میں کشمیر کا حصہ محض 7.7 فیصد اور 8.6 فیصد رہا۔یو این ایس کے مطابق لون کے مطابق مسئلہ آمدنی کے بجائے اثاثہ جاتی معیار میں ہے، جس میں رہائشی مکان اور زمین کے حجم سے متعلق شرائط شامل ہیں، جو کشمیری عوام کو اس زمرے سے باہر کر دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تقریباً تمام بی پی ایل خاندان آمدنی کے معیار پر پورا اترتے ہیں، مگر اثاثہ جاتی شرائط کی وجہ سے انہیں ای ڈبلیو ایس فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے ضلع وار اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سری نگر میں 5.09 لاکھ، کپواڑہ میں 5.21 لاکھ، بارہمولہ میں 5.79 لاکھ اور اننت ناگ میں 5.76 لاکھ بی پی ایل افراد موجود ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔لون نے اس صورتحال کو کشمیر کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معیار کے تحت ریزرویشن کا جھکاؤ جموں کی طرف ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ کشمیر امیر اور جموں غریب ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے، بصورت دیگر موجودہ معیار کے تحت بھرتیوں کا جاری رہنا ناانصافی کے مترادف ہوگا۔انہوں نے دیگر ریاستوں جیسے راجستھان اور کیرالا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں اثاثہ جاتی شرائط کو ختم کیا جا سکتا ہے تو جموں و کشمیر میں بھی اس پر غور کیا جانا چاہیے۔