سرینگر//اس بات کا سنسنی خیزانکشاف ہوا ہے کہ معاشی اقتصادی بدحالی بندشوں بے روزگاری کے باعث وادی کشمیر میں 94.2%لوگ اُلجھنوں پریشانیوں سے دو چار ،جبکہ48%افراد جن میں 18سال سے 69سال تک عمرکے افراد شامل ہے زہنی تناؤ میں مبتلاہے بروقت اقدامات نہیں اٹھائے گئے توآنے والاکل بھیانک ثابت ہوسکتاہے۔اے پی آ ئی کے مطابق مختلف سرکاری اسپتالوں کی جانب سے ہرسال مختلف بیماریوں کے بارے میں جائزہ رپورٹ منظر عام پرلایاجاتاہے یکم جنوری 2021سے لیکر 18جون 2021تک مختلف سرکاری اسپتالوں اور ڈاکٹروںکی جانب سے جوسروے رپورٹ منظر عام پرلایاگیا وہ رونگھٹے کھڑے کردینے کے مترادف ہے 225کے قریب افراد کے ساتھ ڈاکٹروں نے علاج ومعالجہ کیاجس کے دوران اس بات کاانکشاف ہوا کہ وادی کشمیر میں معاشی اوراقتصادی بدحالی بیروزگاری کی وجہ سے 94.2% لوگ ذہنی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے دو چار ہے جبکہ 48%ایسے لوگ ہے جو ذہنی تناؤ میں ،مبتلاہوگئے ہے ۔طبعی ماہرین کے مطابق سروے رپورٹ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ معاشی اور اقتصادی بدحالی نے 48% لوگوں کوزہنی تناؤ میں مبتلاکردیاہے اور ایسے افراد اپنے مستقبل اور روز مرہ کے حالت سے نمنٹے کے لئے خود کوتنہامحسوس کررہے ہے اور ذہنی تناؤ میں مبتلاآکر کسی بھی وقت کوئی بڑافیصلہ ے سکتے ہے۔ ماہرین کے مطابق مختلف بیماریوں کے بارے میں ہرسال سروے رپورٹ منظرعام پرلایاجاتاہے تا ہم لاک ڈاون کے باعث سال 2021کے 5ماہ 18دن کارپورٹ صرف اس لئے منظر عام پرلایاگیاکہ وادی کشمیری مجموعی صورتحا ل کے بارے میں جانکاری حاصل کی جاسکے اوراس دوران جواعداد شمارحاصل ہوئے وہ انتہائی تشویش ناک ہے ۔ماہرین کے مطابق زہنی تناؤ میں مبتلاافرادکوتنہاناچھوڑاجائے انہیں مسائل ومشکلات کے بارے میں نابتائے ایسے افراد کاحوصلہ بڑھانے کی اشدضرورت ہے اوراگرانہیں تنہاچھوڑ دیاگیاتو یہ ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتاہے۔ طبعی ماہرین نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے موثراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اوراگرغیرسنجیدگی کا مظاہراہ کیاگیاتو آنے والا کل بھیانک بھی ثابت ہوسکتاہے ۔ماہرین کے مطابق پچھلے کئی دنوں سے خودکشیوں کے جوواقعات رونماء ہورہے ہے وہ اب اس بات کی عکاسی ہے کہ ذہنی تناؤ میں مبتلاہونے کے بعدانسان کو موت کے بغیر اور کو ئی صورت نظر نہیں آتی ہے جبکہ18-45سال تک کے عمر کے افراد منشیات نشیلی ادویات میخوری کی طرف مائل ہوتی ہے اور ایسے عناصر پھرسماج اور قوم کے لئے ناسور ثابت ہوتے ہیں ۔










