dooran

مضبوط آمدنی، سخت اخراجات اور ڈیجیٹل اصلاحات پر جموں و کشمیر کی مالی حکمتِ عملی

اقتصادی سروے 2026 کے مطابق ترقیاتی اخراجات برقرار رکھتے ہوئے مالی نظم و ضبط پر زور

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر کی مالی حکمتِ عملی برائے 2025–26 کا محور آمدنی کے ذرائع کو وسعت دینا، مستقل اخراجات پر قابو پانا اور بجٹ نظم و ضبط کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ انفراسٹرکچر پر سرمایہ جاتی اخراجات کو بھی جاری رکھا جا رہا ہے۔ یہ بات اقتصادی سروے 2026 میں سامنے آئی، جو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں پیش کیا۔ موجودہ مالی سال کے لیے 1,12,310 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے، جس کے ذریعے حکومت ترقیاتی ضروریات کو تنخواہوں، پنشن اور قرضوں کی ادائیگی جیسے بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ متوازن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق اقتصادی سروے کے مطابق، ریاستی معیشت میں توسیع کے ساتھ سرکاری مالیات میں بھی بہتری متوقع ہے۔ 2025–26 کے دوران موجودہ قیمتوں پر مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار کا تخمینہ 2,85,674 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 8.89 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ترقی مالی اصلاحات اور اہم شعبوں میں منصوبہ بند سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔آمدنی کے شعبے میں گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل بہتری دیکھی گئی ہے۔ ریونیو وصولیاں 2019–20 میں 13,727 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024–25 میں 21,121 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔ رواں مالی سال میں نومبر تک 13,521 کروڑ روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جو گزشتہ سال کی کل وصولیوں کا 64 فیصد بنتا ہے۔ 2019–20 کے بعد سے سالانہ اوسط 9 فیصد کی شرح سے آمدنی میں اضافے کے پیش نظر، حکومت کو 2025–26 کے اختتام تک تقریباً 23,022 کروڑ روپے کی وصولیوں کی توقع ہے۔یو این ایس کے مطابق محصولاتی نظام میں ٹیکس اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلے آٹھ مہینوں میں 9,136 کروڑ روپے کے ٹیکس جمع ہوئے، جن میں جی ایس ٹی کا حصہ تقریباً 59 فیصد رہا۔ 2024–25 میں جی ایس ٹی نے ٹیکس آمدنی کا تقریباً 60 فیصد اور مجموعی آمدنی کا 40 فیصد فراہم کیا۔ حکومت نے ٹیکس تعمیل بہتر بنانے، فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور ڈیٹا پر مبنی جانچ و رسک بیسڈ تصدیق کے ذریعے لیکیجز کو روکنے پر توجہ دی ہے۔ تاہم، رواں سال جی ایس ٹی وصولیاں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کم رہیں، جس کی وجہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل، تجارتی سرگرمیوں میں سست روی اور سیکورٹی و موسمی رکاوٹوں کے باعث سیاحتی آمد میں کمی بتائی گئی ہے۔نان ٹیکس آمدنی کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بجلی ٹیرف نان ٹیکس آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے، جہاں 2024–25 میں وصولیاں بڑھ کر 4,908 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔ اس میں اسمارٹ میٹرنگ اور نیٹ ورک بہتری کے اقدامات کا نمایاں کردار رہا۔ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں مجموعی نان ٹیکس آمدنی 4,386 کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال کی کل وصولیوں کا تقریباً دو تہائی ہے۔آمدنی میں بہتری کے باوجود اخراجاتی دباو برقرار ہے۔ پہلے آٹھ مہینوں میں ریونیو اخراجات 45,157 کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مجموعی اخراجات کا 64 فیصد ہیں۔ تنخواہیں اور پنشن مل کر ریونیو اخراجات کا 52 فیصد سے زائد حصہ بنتی ہیں، جبکہ سود کی ادائیگیاں اور گرانٹس اخراجات کو مزید سخت بنا دیتی ہیں۔ اسی عرصے میں سرمایہ جاتی اخراجات 7,933 کروڑ روپے رہے، جو گزشتہ سال کے کل سرمایہ جاتی اخراجات کا تقریباً 42 فیصد ہیں، اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت بڑھتے معمول کے اخراجات کے باوجود ترقیاتی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔