جموں و کشمیر کی ثقافتی اور روحانی روح کو عالمی آرٹ ہب میں تبدیل کرنا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے ۔سنہا
جموں//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے جموں کے کلا کیندر میں کیسر آرٹ سرکل کے گولڈن جوبلی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ روحانی اور ثقافتی جڑوں سے نئی تخلیقی افقوں تک ، جموں و کشمیر کو آرٹ ہب کے طور پر دوبارہ تصور کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ مصورین اور ادیب جموں و کشمیر یونین ٹیر ٹیری کے فنکارانہ مستقبل کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈٖالیں گے ۔ ‘‘ اس تقریب میں لفٹینٹ گورنر نے مشہور مصور اور کیسر آرٹ سرکل کے بانی شری بھوشن کیسر کو اعزاز سے نوازا ۔ انہوں نے بھوشن کیسر کی غیر معمولی خدمات کی تعریف کی جو ہزاروں فنکاروں کی پرورش اور تربیت میں مصروف رہے ہیں ، جنہوں نے ان کی سرپرستی میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ ہمارے مقدس ورثے کی حفاظت مستقبل کی تعمیر کی بنیاد ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ جموں و کشمیر کی ثقافتی اور روحانی روح کو عالمی آرٹ ہب میں تبدیل کرنا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ میرا خیال ہے کہ فن مختلف ثقافتوں کو جوڑنے کا پُل ہے اور ہماری قدیم روحانی اور ثقافتی وراثت کو زندہ کرنے کا ذریعہ ہے ۔ ‘‘ انہوں نے فنکاروں ، مفکرین ، مصورین اور مجسمہ سازوں کو معاشرے کا ’’ ضمیر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے اہم کردار پر روشنی ڈالی کہ وہ جمہوریت میں عوامی شرکت اور قوم کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ انہوں نے نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ فن کی طاقت کو مثبت تبدیلی کیلئے استعمال کریں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ فن معاشرے کیلئے آئینہ بھی ہے اور رہنما بھی ۔ نوجوانوں کو چاہئیے کہ فن کو ایک ذریعہ کے طور پر قبول کریں تا کہ اپنی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھیں ، جڑوں سے جُڑے رہیں اور وکست بھارت کے وژن میں حصہ ڈالیں ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے ایک مصوری نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف فنکاروں کو بھی اعزاز سے نوازا ۔ اس موقع پرپدم شری ڈاکٹر ایس پی ورما ، شری برج موہن شرما ، پرنسپل سیکرٹری کلچر ، ریجنل ڈائریکٹر آئی جی این سی اے ، ڈائریکٹر آرکائیوز ، سیکرٹری جے کے اے اے سی ایل ، سیکرٹری کلا کیندر جموں ، سینئر افسران ، نمایاں فنکار اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری موجود تھے ۔










