مشیر فاروق خان نے عشمقام زیارت گاہ پر حاضری دی

مشیر فاروق خان نے عشمقام زیارت گاہ پر حاضری دی

اننت ناگ//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے عشمقام میں سخی زین الدین ولی ؒ کی زیارت گاہ پر حاضری دی۔مشیر فاروق خان نے زیارت گاہ کے دورے کے دوران ایک ماسٹر پلان تیار کرنے پر زور دیا تاکہ زیارت شریف میں مستقبل کی تمام پیش رفت منصوبہ بندی اور اس کی تاریخی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اَنجام دی جاسکے۔اِس موقعہ پر متعدد وفود نے مشیر موصوف سے ملاقات کی اور اَپنے مطالبات گوش گزار کئے ۔ اُنہوں نے مشیر فاروق خان کو جانکاری دی کہ عشمقام صوفی سرکٹ کا حصہ ہے اور محکمہ سیاحت کی جانب سے کچھ ترقیاتی کام شروع کئے جارہے ہیں ۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ احاطے میں سولر لائٹس لگائی اور ٹوائلٹ بلاکس بنائے جائیں۔اُنہوں نے نوجوانوں کو کھیل سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے سپورٹس سٹیڈیم تعمیر کرنے کی بھی درخواست کی۔ مشیر موصوف نے وفود کو بغور سنا اور انہیں یقین دِلایا کہ وہ ماہرین کی ایک ٹیم کو ان مسائل کا جائزہ لینے کے لئے بھیجیں گے تاکہ ان مسائل کو ماحولیاتی طور پر حل کیا جاسکے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے تمام ترقیاتی اقدامات کا مقصد سائٹ کو اس کی اَصل شکل میں بحال کرناہوگا ۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوںکے لئے کئی ترقیاتی اِقدامات اُٹھائے ہیں اور آنے والے مہینوں میں کھیل میدان تعمیر کیا جائے گا۔مشیر موصوف نے مزید کہا کہ زیارت شریف پر تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے اَفراد کی آمد ہوتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ زیارت شریف فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اخلاقیات کا نمائندہ ہے جس کے لئے کشمیر مقبول ہے اور مقامی آبادی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اَپنی مہمان نوازی کے ذریعے ایسے اخلاق کو برقرار رکھیں۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے پی آر آئیز اور مقامی اَوقاف کے اراکین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہیں یقین دِلایا کہ بورڈ میں موجود لوگوں کی رائے کو لے کر ایک ماسٹر پلان تیار کیا جائے گا۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ پیوش سنگلا نے مشیر موصوف کو جانکاری دی کہ زیارت شریف کی مقامی اِنتظامیہ کووِڈ۔19وبائی اَمراض کے دورا ن تعاون کرتی رہی ہے اور زیارت شریف کے احاطے میں کووِڈ مناسب طرزِ عمل( سی اے بی) کو نافذ کرنے کے لئے ضلع اِنتظامیہ کے ساتھ مل کر مسلسل کوششیں کی ہیں۔مشیر فاروق خان کے ہمراہ ڈی ڈی سی ، ایس ایس پی ، سی پی او ، ایس ڈی ایم پہلگام اور دیگر سینئر اَفسران بھی تھے۔