سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے سکاسٹ کشمیر شالیمار کیمپس میں 2روزہ ساتویں ٹیکنالوجی ایگزیشن کم سیڈ سیل میلے کا اِفتتاح کیا۔ اِس برس کے میلے کا تھیم ’’ آرگنِک فارمنگ۔ جموںوکشمیر اور لداخ میں پائیدار زراعت کی طرف ایک راستہ ‘‘ ہے۔مشیر موصوف نے تقریبا ً 200 سٹالوں کا معائینہ کیا جس میں زراعت ، باغبانی ، اینمل ہسبنڈری ، ماہی پالن ، ایگرو فارسٹری ، ایگری اِنجینئرنگ اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تیار کردہ مختلف قسم کی مصنوعات اور ٹیکنالوجیوں کی نمائش کی گئی۔اُنہوں نے کسانوں کی مختلف فلاحی سکیموں اور پروگراموں کی نمائش کے سٹالوں کا بھی جائزہ لیا۔اِس کے علاوہ دیگر شراکت داروں کی طرف سے نمائش کا بھی جائزہ لیا گیا جو اِس تقریب کے دوران نصب زرعی آلات ، فارم مشینری اور آرگنِک مصنوعات سے متعلق تھے۔میلے میں لداخ یوٹی کے باغبان ، کھمبی کے کاشت کار ، سبزیوں کے کاشت کار ، پھولوں کی کاشت کرنے والے ، مویشی پالنے والے پولٹری فارموں ، ایکو ا کلچرسٹ ، سیری کلچرسٹ ، ان پٹ ، ڈیلروں ، مختلف ایم این سیز ، فارم مشینری کے نمائندوں اور جموں وکشمیر کے ممبران سمیت تمام کسانوں نے ایک ساتھ خریداری کی۔ اِس میلے نے کشمیر اور لداخ میں تمام فیکلٹیوں ، کالجوں ، کرشی وگیان کیندروں ، تحقیقی اداروں اور یونیورسٹی کی جزوی اکائیوں کی فعال شمولیت کے ساتھ ہزاروں لوگوں کو بھی راغب کیا۔ لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے کہا کہ اِس طرح کی نمائشیں کسانوں کو قابل اعتماد ، اَپ ڈیٹ اور متعلقہ معلومات تک رَسائی کا ایک غیر معمولی موقعہ فراہم کرنے میںاہم کردار اَدا کرتی ہیں۔ اِس طرح کسانوں کے خطرے اور غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے میںمدد ملتی ہے اور اُنہوں نے کہا کہ ایسی نمائشیں مستقبل قریب میںشمالی اور جنوبی کشمیر کے علاقوں میں کسان برادری کی فلاح و بہبود کے لئے منعقد کی جانی چاہئیں ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کھیتی باڑی کو تعلیم یافتہ لوگوں نے اَپنایا ہے جو تکنیکی اِنٹرونشوں سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کررہے ہیں اور روزگار فراہم کرنے والے بن رہے ہیں۔اُنہوں نے سٹالوں کے معائینہ کے دوران ترقی پسند کسانوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اُنہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ لوگوں کی طرف سے کی جارہی کاشتکاری سے انہیں یہ اعتماد ملتا ہے کہ کشمیر کا ایک کسان دنیا میں کہیں بھی مقابلہ کرے گا اور کسی دوسرے کسان سے بہتر نتائج پیدا کرے گا۔ایک بی ٹیک محمد رمضان بٹ نے مشیر موصوف کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے کاشت کاری کو اَپنا پیشہ اختیا ر کیا ہے اور مختلف سرکاری سکیموں سے فراہم کی جانے والی مدد کی وجہ سے اَچھا کام کر رہے ہیں۔بعد میں مشیر فاروق خان نے سکاسٹ کی رہنمائی کرنے والی فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنوں کو رجسٹریشن سر ٹیفکیٹ بھی پیش کی۔ اِس موقعہ پر طلباء اور فیکلٹی اِختراع کرنے والوں کو بھی نوازا گیا۔مشیر موصوف نے کسان دوست سرگرمیوں کے لئے یونیورسٹی کی کوششوں کی بھی تعریف کی اور اُنہوں نے کہا کہ میلے کے پہلے دِن لوگوں کی آمد سکاسٹ اور کسان برادری کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کی پیداوار خصو صی ہے اور ہمیں اسے کسانوں کے لئے مزید فائدہ مند بنانے کی ضرورت ہے۔میلے میں شرکت کرنے والوں میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر نذیر احمد گنائی ، صوبائی کمشنر کشمیر پانڈورانگ کے پولے ، ڈائریکٹر سکمز پرویز احمد کول ، ڈائریکٹر جنرل ہارٹی کلچر اعجاز احمد بٹ ، ڈائریکٹر زراعت کشمیر چودھری محمد اقبال اور دیگر اَفسران شامل تھے۔










