جموں//لفٹینٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے پرنسپل سیکرٹری یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ ( وائی ایس ایس ) الوک کمار کے ساتھ سپورٹس ایسوسی ایشن کے ممبران کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں جے کے یو ٹی میں کھیلوں کی ثقافت کو فروغ دینے اور ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کیلئے سپورٹس ایسوسی ایشنز کے ذریعے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور کردار ادا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مشیر نے کہا کہ کھیلوں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ بات چیت کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کی ضروریات اور گنجائش کا مزید جائیزہ لینے کیلئے ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کرنا تھا تا کہ مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو اپنی کھیلوں کی مہارت کو نکھارنے اور جے کے یو ٹی کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کیلئے بنیادی اور معیاری سہولیات مل سکیں ۔ مشیر نے اس کی طرف سے ادا کئے جانے والے اہم کردار پر روشنی ڈالی اور ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے شعبوں کو دیہی علاقوں تک پھیلانے کیلئے ٹیلنٹ ہنٹ کیمپوں کا انعقاد کر کے قدرتی ہُنر /ہُنر کی تلاش کریں ۔ مشیر فاروق خان نے مزید کہا کہ رہنما خطوط کے مطابق سپورٹس کونسل کے ساتھ تمام اسپورٹس ایسوسی ایشن کے رجسٹریشن کے عمل کی ضرورت ہے تا کہ حکومت کھیلوں کے حقیقی افراد تک مالی امداد فراہم کرے ۔ انٹریکٹو سیشن کے دوران پرنسپل سیکرٹری وائی ایس ایس نے کہا کہ آج کی میٹنگ حکومت اسپورٹس کونسل اور اسپورٹس ایسوسی ایشنز کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے میں بہت اہم ثابت ہو گی ۔ اس سے قبل مختلف اسپورٹس ایسوسی ایشنز نے کوچز ، کھیل کے میدان ، طبی سہولیات ، فزیو تھراپسٹ ، سفر کے دوران گاڑیوں ، بورڈنگ اور قیام کیلئے ، تقریب کے دوران شرائین بورڈ کے ساتھ معاہدہ ، کھلاڑیوں کی تربیت کیلئے ہوسٹل کی سہولیات ، سالانہ فٹنس کے حوالے سے اپنے مسائل اور مطالبات اجاگر کئے ۔ انجمنوں کا جواب دیتے ہوئے مشیر خان نے یقین دلایا کہ انٹریکٹو میٹنگ میں اٹھائے گئے تمام حقیقی مطالبات کا جلد ازالے کیلئے جائیزہ لیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر جلد ہی کھیلوں کی پالیسی کے ساتھ آ رہا ہے جو کہ قومی کھیلوں کی پالیسی کے مطابق ہو گی اور اس کا جامع طور پر ازالہ کرے گی ۔ سیکرٹری سپورٹس کونسل جموں و کشمیر نزہت گُل اور جموں و کشمیر کی تقریباً 40 سپورٹس ایسوسی ایشنز کے متعدد صدور ، جنرل سیکرٹریز نے میٹنگ میں شرکت کی ۔










