سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے سکاسٹ کشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ ساتویں ٹیکنالوجی کم سیڈ سیل میلے کے موقعہ پر سیٹھار کرکٹ بیٹ کلسٹر سے وابستہ اِستفادہ کنندگان میں کرکٹ کے بلے کی تیاری کے لئے اِستعمال ہونے والے اعلیٰ معیار کے بید پودے وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر نذیر احمد ، صوبائی کمشنر پانڈورانگ کے پولے اور مختلف ڈینز اور ہیڈ آف ڈیپارنمٹوں کی موجودگی میں تقسیم کئے۔ اِس موقعہ پر ناظم صنعت و حرفت کشمیر محمود احمد شاہ نے کہا کہ ورلڈ بینک کی مالی اعانت سے جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ ( کے ٹی ایف آر پی ) کے تحت فیکلٹی آف فارسٹری سکاسٹ کشمری بہترین کوالٹی کے بید( Salix Alba varcaerulea)کی شناخت اور اِس کی تشہیر کے لئے مصروف عمل ہے۔کرکٹ بیٹ کی تایری کے لئے اِستعمال کیا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ اعلیٰ معیار کے بید کے استعمال سے وادی میں تیار ہونے والے کرکٹ بیٹ کا معیار باقی دنیا میں تیار کئے جانے والے بیٹوں سے موازنہ کیاجائے گا۔ڈین فیکلٹی آف فارسٹری نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ نے کشمیر ولو کے لئے جی آئی ٹیگ کے لئے درخواست کے لئے تحقیقی کام مکمل کیا ہے اور محکمہ صنعت کے ساتھ مل کر جی آئی مارک کی الاٹمنٹ کے لئے جلد ہی جی آئی چنئی کے رجسٹرار سے رجوع کرے گا ۔ جی آئی مارک کی الاٹمنٹ سے تیار کردہ کرکٹ بیٹ کے معیار کے پیرا میٹرون منجمد ہوجائیں گے۔تقریب میں شرکت کرنے والے کرکٹ بیٹ کلسٹر کے مختلف نمائندوں نے پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت رنجن پرکاش ٹھاکر کی جانب سے کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کی ترقی کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔ مزید یہ کہ مختلف شراکت داروں نے مشور دیا کہ اننت ناگ ضلع میں بڑے پیمانے پر وِلو کے اعلیٰ معیار کے فروغ کے لئے موزوں زمین کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔










