بڈگام / /لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان کے ہمراہ ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا ، ناظم سیاحت ڈاکٹر جی این ایتو ، ناظم آر ڈی ڈی طارق احمد زرگرنے مختلف شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کرنے ، اِنتظامات کا جائزہ ، ضلع بڈگام کی کووِڈ۔19 وَبائی کی دوسری لہر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بڈگام کا دورہ کیا۔ اِس سلسلے میں گورنمنٹ پالی تکنیک کالج ناگام میں مشیر موصوف کی صدارت میں ایک اِجلاس منعقد ہوا جس میں معززین ، ڈپٹی ڈی ڈی سی چیئرمین نذیر احمد ،صدر میونسپل کمیٹی چاڈورہ ، ایس ڈی ایم چاڈورہ ، سی ایم او ، اے سی ڈی ، ایس ای ہائیڈولکس کے علاوہ مختلف علاقوں کے نمائندوں ، چاڈورہ ناگام کی تجارتی اور ٹرانسپورٹ یونینوں کے نمائندوں اور مذہبی رہنمائوں نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر بصیر احمد خان نے کہا کہ آج کے دورے کا مقصد تمام شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کرنا ہے جو کووِڈ ۔19 وَبائی امراض کے خلاف مقابلہ کرنے میں اہم ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ سو ل سوسائٹی اور مذہبی رہنمائوں سمیت دیگر سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر اِنتظامیہ کی جانب سے شروع کی جانے والی فعال اور جارحانہ انداز نے مثبت واقعات کو کافی حد تک کم کیا ہے ۔ اُنہوں نے وَبائی مرض پر مکمل طور پر قابو پانے کے لئے مزید انتھک کوششیں کرنے پر زور دیا۔مشیر موصوف نے وسائل کی دستیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وسائل جیسے آکسیجن ، طبی سہولیات وغیرہ کی کوئی کمی نہیںہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور لیفٹیننٹ گورنر کی فعال مداخلت سے یوٹی نے فرینکفرٹ جرمنی سے 9 اعلیٰ معیار والے آکسیجن پلانٹس حاصل کئے جب یہ بیماری عروج پر تھی اور کچھ ہی دنوں میںمزید 9 پلانٹس نصب کئے گئے ۔مشیر بصیر احمد خان نے کہا کہ جموںوکشمیر میں پنچایتی سطح پر قائم کووِڈ کیئر سینٹروں سے دیہی علاقو ں میں بستروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ایک جرت مندانہ اور مؤثر فیصلہ ہے جو کووِڈ ۔19 وبائی امراض کے پھیلائو کو روکنے میں اہم رول ادا کرے گا۔اُنہوںنے یہ بھی کہا کہ مریضوں کی سہولیت کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے بھی ماہر ڈاکٹر ٹیلیفون پرمشاورت اور ٹیلی میڈیسن میں شرکت کے لئے چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں۔ اس اقدام کے بہت سے سود مند نتائج حاصل ہوئے ہیں کیوں معاشرے کے ساتھ ساتھ مریض بھی اس اقدام سے مستفید ہوتے ہیں۔ویکسی نیشن کی صورتحال کے بارے میں مشیر نے کہاکہ کوشش کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کم سے کم وقت میں کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں۔مشیرموصوف نے وہاں موجود کچھ افراد کی طرف سے اٹھائے جانے والے پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر اس بات کا اعادہ کیا کہ نرمی سے متعلق فیصلہ کووِڈ۔19 کی صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ منظر نامے کو ملحوظ نظر رکھنا اِس بات کا امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں حالت میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ افواہوں پردھیان نہ دیں۔اِس موقعہ پر مشیر موصوف نے ضلع اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی کووِڈ ۔19 وَبائی اَمراض کے مابین کسی بھی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے چوکس رہیں ۔اُنہوں نے لوگوں سے تاکید کی کہ وہ کووِڈ مخالف ویکسین جلد از جلد لگائیں۔انہوں نے خصوصی طور پر موجودہ لہر کے دوران عام لوگوں کے تعاون اور مذہبی رہنمائوں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ ایس او پیز کے بارے میں یہ پیغام پھیلانے میں اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔مشیر بصیر خان نے اَفسران کو ہدایت دی کہ دیہی ترقیاتی کاموں کو جاری رکھیں اور مناسب کووڈ اصولوں اور ایس اور پیز پر سختی سے عمل کریں۔اس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا نے اِس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ضلع اِنتظامیہ کی جانب کووِڈ ۔19 وبائی ، کنٹین منٹ اِقدامات ، طریقہ کار اور دیگر اِقدامات کے بارے میں تفصیلی رِپورٹ پیش کی۔اُنہوں نے کہا کہ اب تک بڈگام ضلع میں 13,776 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں اور ان میں سے 12,676 مریض شفایاب ہوچکے ہیں ۔ اس طرح صحتیابی کی شرح 95.4فیصد ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کووِڈ وبائی بیماری سے گزشتہ پانچ دِنوں سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں 120 کنٹین منٹ زون ہیں اور ان میں ٹیسٹنگ تیزی سے جاری ہے ۔ اُنہوں نے ٹیکہ کاری مہم کی صورتحال کے بارے میں کہاکہ 45عمر سے اوپر عمر کے تقریبا ً 79 فیصد ہدف حاصل ہوچکا ہے اور 18 برس عمر سے 44برس عمر تک کے گروپوں کا ہدف 44فیصد حاصل کر لیا ہے۔










