سری نگر//مشن ڈائریکٹرجل جیون مشن خورشید احمد شاہ نے ایک منعقدہ میٹنگ میں راجوری ضلع میں مشن کی عمل آوری کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں چیف اِنجینئر جل شکتی (پی ایچ اِی) محکمہ جموں، سپراِنٹنڈنگ اِنجینئر ہائیڈرولک سرکل راجوری، فیلڈ ڈویژنوں کے ایگزیکٹیو اِنجینئروں، اسسٹنٹ ایگزیکٹیو اِنجینئروں(اے اِی اِی) اور جونیئر اِنجینئروں (جے اِی) کے علاوہ میکنیکل وِنگ کے اَفسران نے بھی شرکت کی۔دورانِ میٹنگ ضلع میں جاری سکیموں کے بارے میں پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے تفصیلات فراہم کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں 87,188 دیہی گھرانے ہیں جن میں سے 55,454 گھرانوں کو اَب تک فنکشنل ہاؤس ہولڈ ٹیپ کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) فراہم کئے جا چکے ہیں۔ 183 سول سکیمیں 351 کاموں پر مشتمل مختلف مراحل میں ہیں جن میں 10 ڈوگ ویل، 108 بور ویل، 43 ریپڈ سینڈ فلٹریشن پلانٹس (آر ایس ایف پی)، 2 اوور ہیڈ ٹینک (او ایچ ٹی)، 183 پائپ نیٹ ورکس اور 5 سلو سینڈ فلٹریشن پلانٹس (ایس ایس ایف پی) شامل ہیں۔ اَب تک 159 کاموں پر مشتمل 43 سکیمیں مکمل ہوچکی ہیں۔مشن ڈائریکٹر نے ضلع میں 107 بورویل کامیابی سے مکمل کرنے پر اَفسران کی سراہنا کی، تاہم اُنہوں نے ریپڈ سینڈ فلٹریشن پلانٹس (آر ایس ایف پی) کو شروع نہ کرنے پر بھی روشنی ڈالی جو مستفیدین کے لئے پینے کے پانی کے معیار کے لحاظ سے ایک لازمی جزو ہیں۔ ایم ڈِی کو یقین دِلایا گیا کہ ان میں سے زیادہ ترآر ایس ایف پی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور جاری سکیموں کے دیگر اجزأ کے ساتھ جلد ہی اسے شروع کیا جائے گا۔ایم ڈِی کو مزید جانکاری دی گئی کہ ضلع میں 145 میکنیکل سکیمیںعملائی جا رہی ہیں جن میں سے 92 سکیموں کے لئے مشینری خریدی جا چکی ہے اور 50 سکیمیں مکمل کی جا چکی ہیں۔مشن ڈائریکٹر نے جل جیون مشن پر عمل درآمد کرنے والے افسران پر زور دیا کہ وہ واٹر سپلائی سکیموں کے لئے مالیاتی اِنتظام کو بہتر بنائیں تاکہ لاگت میں اِضافے سے بچا جا سکے۔










