editorial

مسلمان کی شناخت

دورِ حاضر کا مسلمان اخوت، اتحاد اور مروّت کے جذبوں سے دامن بچائے پھرتا ہے، حالانکہ ہم دنیا کی بہترین قوم ہیں اور ہم زرخیز ترین اور حساس ترین لوازمات کے مالک ہیں۔ مگر مسلم دشمن باطل قوتوں نے ہمیں مختلف دھڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ مسلمانوں کو کمزور کرنے اور انہیں آپس میں لڑانے کی ہر دور میں بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی بنیاد اور شناخت کو ملانے کی کوشش نہیں کی، حالانکہ ہماری پہچان ایک ہے:
ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں۔
ہم ایک نبیؐ کے امتی ہیں۔
ہم ایک ہی عمارت کی اینٹیں ہیں۔
ہم ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں۔
ہم ایک ہی گلدستے کے پھول ہیں۔
ہم ایک ہی قانون کے پابند ہیں۔
ہم ایک ہی تسبیح کے دانے ہیں۔
ہم ایک قرآن کے ماننے والے ہیں۔
گویا ہماری پہچان ایک ہے۔ ہم نہ ترکی ہیں، نہ ایرانی، نہ افغانی اور نہ پاکستانی، ہم صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ اگر ہم متحد ہو جائیں تو دنیا پر واضح کر سکتے ہیں کہ ہم پر اٹھنے والی آنکھ کو جھکا سکتے ہیں اور ہماری طرف بڑھنے والے ہاتھ کو قلم کر سکتے ہیں۔ اگر ہمیں کامل ایمان اور اتحاد نصیب ہو جائے تو یقیناً دہکتے ہوئے شعلوں کو بھی گلزار بنا سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان مسلک اور نظریات کے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک پرچم کے نیچے جمع ہوں اور اخوت و اتحاد کی وہ مثال قائم کریں جو اسلام کی حقیقی روح ہے۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بلا تمیزِ مسلک و نظریہ ایک پرچم کے نیچے جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔