مسلمانوں نے جمعۃ الوداع کی نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی

نئی دہلی: ماہ صیام کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کے موقع پر ملک بھر کے مسلمانوں نے جمعہ کی نماز مساجد میں ادا کی اور کئی ریاستوں میں اس بات کا خاص خیال رکھا کہ نماز سڑکوں پر ادا نہ کی جائے۔ اس مرتبہ سڑک پر نماز نہ ادا کرنے کے پیچھے انتظامیہ کی جانب سے سختی بھی تھی اور خود علما اکرام نے پہل کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نماز سڑک پر ادا کرنے سے گریز کریں۔خیال رہے کہ کورونا وبا کے سبب گزشتہ دو سالوں سے جمعۃ الوداع کی نماز مسجدوں میں ادا نہیں کی جا رہی تھی کیوں مساجد میں بیکوقت صرف پانچ لوگوں کو ہی نماز ادا کرنے کی اجازت تھی۔ادھر، یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں جمعۃ الوداع کی نماز کے حوالہ سے حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ الہ آباد سے موصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ شہر میں کہیں بھی سڑک پر جمعۃ الوداع کی نماز ادا نہیں کی گئی۔ سڑک پر نماز نہ ہونے کی وجہ سے جب مساجد کھچا کھچ بھر گئیں تو تمام عبادت گاہوں میں دو بار نماز ادا کی گئی۔ مساجد میں دو مرتبہ نماز جمعہ ادا کرنے کا معاملہ بھی پہلا اور منفرد تھا۔اے بی پی نیوز کے مطابق اس دوران الہ آباد میں بھی آپسی بھائی چارے کی مثال بھی دیکھنے کو ملی۔ نمازی جمعۃ الوداع نماز ادا کرنے کے بعد شہر کے علاقے چوک میں واقع جامع مسجد سے باہر نکلے تو دیگر مذاہب کے لوگوں نے ان پر پھولوں کی بارش کی۔مرادآباد سے ملی اطلاعات کے مطابق مسلمانوں نے انتظامیہ اور علماءاکرام کی ہدایات پر پوری طرح عمل کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کہیں بھی سڑک پر نماز نہ ادا کی جائے اور اپنے ہم وطن بھائی بہنوں کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔ وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ جامع مسجد بہت بڑی ہے اور محلوں میں کئی کئی مساجد ہیں اس لئے سڑک پرنماز پڑھنے کی نوبت نہیں آئی اور اگر کہیں ضرورت بھی پڑتی تو ایک مسجد میں دو مرتبہ جمعہ کی نماز ادا ہو جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران سماجی دوری کی وجہ سے مساجد میں جمعہ کی نمازیں دو مرتبہ ہوئی تھیں۔ جس سڑک پر اکثر جمعہ کی نما ز ہوتی تھی اور انتظامیہ کی جانب سے سڑک پر نماز نہ ادا کرنے کی ہدایت تھی وہاں پر عام دنوں کی طرح ٹریفک چلتا دکھائی دیا۔اتر پردیش کے کئی اضلاع سے اسی طرح کی خبریں ہیں کہ لوگوں نے بہت ہی خشوع و خضوع کےساتھ جمعۃ الوداع کی نماز ادا کی اور اس بات کا خیال رکھا کہ ان کی عبادت سے کسی کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ مغربی اتر پردیش کے کئی اضلاع سے یہی اطلاعات ہیں کہ وہاں پر جمعۃ الوداع کی نماز سکون سے ادا کی گئی۔دہلی میں خاص طور سے جہانگیر پوری علاقہ میں جمعۃ الوداع کی نماز سکون سے ادا کی گئی۔ دہلی میں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے سڑک پر نماز نہ پڑھنے کی کوئ ہدایت نہیں تھی لیکن مسلمانوں نے اس بات کا پورا خیال رکھا کہ سڑکوں پر نماز نہ ادا کی جائے اور کسی کو ان کی عبادت سے کوئی تکلیف نہ ہو۔