وادی میں کھیت کھلیان سوکھ گئے

مسلسل خشک سالی کے نتیجہ سے کسان پریشانیوں سے دو چار

کئی علاقوں میں میوہ باغات،شالی کوشدید نقصان،اخروٹ کی پیداوار میں کمی

سرینگر//وادی کشمیر میں فروری مارچ تک شدید بارشوں کے بعد موسم مسلسل خشک رہنے کے نتیجے میں امسال وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں فصلوں اور میوہ باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں کسان مایوسی کے شکار ہوئے۔کسانوں نے بتایا بیشتر دہی علاقوں میں مکی کافصل اور چند مقامات پر شالی اورسیب کے درخت بھی بلاسٹ بیماری کے لپیٹ میں آئے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں سال رواں کے فروری اور مارچ تک شدید بارشوں کے بعدموسم تقریباً مسلسل طور خشک رہا ہے جس کے نتیجے میں جہاں مختلف فصلوں اور میوہ جات کے پیداوار میں کمی واقعہ ہوئی وہی دوسری جانب اب اس وجہ سے میوہ جات اور باقی فصل تیار ہونے سے قبل ہی خراب ہوئے۔جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک میوہ باغ مالک عبدا رحمان تانترے نے وی او آئی نمائندے امان ملک کو بتایا ان کے باغ میں امسال سیبوں کے پیداوار میں کافی اضافہ ہوا ہے تاہم تا حال بارش نہ ہونے کی وجہ سے سیبوں پر رنگ نہیں آیا ہے جبکہ خشک سالی کی وجہ سے درختوں کے پتے گرنے لگے اور باغات موسم سرما کا منظر پیش کرنے لگے ہیں انہوں نے بتایا سال بھر انہوں دروائیوں پر زر کثیر خرچ کی ہے لیکن اب انہیں امید تھی انہیں بہتر انداز میں فصل سے ا?مدنی حاصل ہوگی۔انہوں نے بتایا تاہم آخر پر انہیں بڑے نقصان سے دو چار ہونا پڑ سکتا ہیجس کی وجہ سے اب لوگ میوہ صنعت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ محمد یوسف راتھر نامی ایک شہری نے بتایا انہیں کافی سالوں کے بعد مکی کی بہتر فصل تھی تاہم ا?خر پر یہ فصل بھی بلاسٹ بیماری کے لپیٹ میں آیا ہے جہاں مکی تیار ہونے سے قبل سوختہ ہو کرگر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ساری صورتحا ل سے کسانوں کو پریشانی ہوئی۔چند باغ مالکان نے بتایا اگر اب بھی بارش ہوتی تو انہیں زیادہ نقصان سے دو چار نہیں ہونا پڑتا۔انہوں نے بتایا چند علاقوں پانی کی سہولیات موجود ہے جس سے باغات کی سنچائی کی جا سکتی ہے لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پانی مت ڈالوں کچھ لوگ کہتے ہیں سنچائی اس موسم میں مفید اور کسان اس حوالے سے بھی پریشان ہیں۔ادھر جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اخروٹ کی پیداوار بھی کافی زیادہ ہوتا ہے جہاں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں 70فیصد سے زیادہ لوگوں کے پاس اخروٹ کے درخت ہے۔باقی فصلوں کے ساتھ ساتھ سال میں کئی بار شدید قسم کی ڑالہ باری کی وجہ سے اخروٹ کی پیداوار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔لوگوں نے بتایا 80 فیصد سے زیادہ نقصان اخروٹ کے کام کاج سے منسلک لوگوں کا کرنا پڑا۔لوگوں نے بتایا اس موسم میں اخروٹ درختوں سے خود گرتے تھے تاہم اب کی بار بلکل ایسا نہیں ہے۔انہوں نے بتایا اس وجہ سے بھی لوگوں کو نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے۔کچھ کسان سال رواں کے ابتدائی مہینوں کی شدید بارشوں اور کچھ لوگ ڑالہ باری اور اکثریت کا ماننا ہے کہ مئی کے بعد بہتر بارشیں نہ ہونے کے وجہ سے کسانوں کو اس طرح کے نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔