مرکزی وزیر مملکت خزانہ نے جے اینڈ کے بینک ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا

مرکزی وزیر مملکت خزانہ نے جے اینڈ کے بینک ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا

سری نگر//مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر بھگوت کشن رائو کرادنے جے اینڈ کے بینک ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور سینئر مینجمنٹ کے ساتھ بینک کے سی ایم ڈی آر کے چھبر کے ساتھ بات چیت کی ۔ وزیر مملکت ڈاکٹر بھگوت کشن رائو نے بینک کی حالیہ کارکردگی اور مجموعی کام کاج پر اطمینان کا اِظہار کیا۔سی ایم ڈی آر کے چبر نے بینک کی تاریخ کے بارے میں وزیر موصوف کو بریفنگ دیتے ہوئے خطے کے مجموعی معاشی کام میں بینک کے نظامی کردار پرروشنی ڈالی اور اِس کے ساتھ جموںوکشمیر اور لداخ کی آٹھ دہائیوں سے زیادہ مالی تبدیلی میں اس کی اہم شراکت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہاکہ بینک بنیادی طور پر مضبوط ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے فلیگ شپ پروگراموں جیسے کہ وزیر اعظم جن دھن یوجنا ، پی ایم مدرا یوجنا اور دیگر سماجی تحفظ کی سکیمیں اور حال ہی میں کووڈ 19 وبائی امراض کے دوران ہم نے اتمانربھر بھارت ابھیان کے تحت وزارت خزانہ کی جی ای سی ایل سکیم کو عملانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بعد میں وزیر نے تجارتی انجمنوں اور صنعت سے وابستہ ایسو سی ایشنوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی ایک میٹنگ منعقد کی جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس اتل ڈولو ، جے اینڈ کے بینک کے سی ایم ڈی آر کے چبر، ڈی جی بجٹ ایم وائی ایتو ، کمشنر سٹیٹ ٹیکس شوکت اعجاز بٹ اور ڈائریکٹر ریسور سز فائنانس ڈیپارٹمنٹ شوکت حسین میر اور بینک کے سینئر مینجمنٹ اَفسران بھی موجود تھے۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر بھگوت کشن رائو کراد نے کہا ۔’’ ہمارے وزیر اعظم ملک بھر میں کاروبار اور اس کی ترقی کے بارے میں بہت فکر مند ہیں او رہمارے پاس جموںوکشمیر کے تاجروں سے سننے کے لئے واضح ہدایات ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جے اینڈ کے بینک یہاں ایک شاندار کام کر رہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر کوقدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور آیوروید ادویات او ردیگر مصنوعات کے لئے بہت زیادہ گنجائش موجود ہے ۔ وادی کے خو اہشمند تاجروں کو اس سکیم سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے جو متعلقہ مرکزی وزارت نے اِس شعبے کے لئے وضع کی ہے۔فائنانشل کمشنر ( خزانہ ) او رایڈیشنل چیف سیکرٹری اتل ڈولو نے کہا کہ حکومت مقامی کاروباری اِداروں کی مدد کے لئے مختلف سکیمیں تشکیل دے رہی ہے۔یوٹی حکومت کی جانب سے کووِڈ ۔19 کی وجہ سے 1350 کروڑ روپے کے رِی ہیبلٹیشن پیکیج کا اعلان کیا تھا تاکہ جموںوکشمیر میں کاروبار کو بحال کیا جاسکے ۔رُکاوٹوں کے باوجود کاروباری برادری کی مدد کرنے میں جے اینڈ کے بینک کے اہم کردار کی تعریف کرتے ہوئے پی ایچ ڈی سی سی آئی سے مشتاق چایہ اور بلدیو سنگھ نے کہا ،’’ ہم سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس ادارے سے منسلک ہیں جس نے ہمیشہ کاروبار اور صنعت کی مددکی ہے۔صدر کے سی سی آئی شیخ عاشق نے کہا،’’ ایکسپورٹ اِنڈسٹری کو بنیادی ڈھانچے کی اَپ گریڈیشن کی ضرورت ہے جبکہ بطور اِنڈسٹری ہینڈ ہولڈنگ، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے سنجیدہ حکومتی اقدامات اورگزشتہ کئی برسوں کے دوران عجیب غریب صورتحا ل کی وجہ سے جی ایس ٹی پیرا میٹروں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔صدر سی اے سٹورز ایسوسی ایشن ماجد اسلم وفائی نے بینک کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ، “بحران جیسے حالات کے باوجود ، بینک کا این پی اے صرف 2.92 فیصد ہے اور اس میں سے جے کے کا حصہ کم سے کم ہے۔ اس کی OTS پالیسی انڈسٹری میں بہترین ہے۔ تاہم ، اسے نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے مرکزی حکومت کی مدد درکار ہے۔