مرکزی وزیر راجیو رنجن اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مشترکہ طور پر جموں وکشمیر میں مویشی پالن اور ماہی پروری کے شعبے کا جائزہ لیا

مرکزی وزیر راجیو رنجن اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مشترکہ طور پر جموں وکشمیر میں مویشی پالن اور ماہی پروری کے شعبے کا جائزہ لیا

ڈیری کوآپریٹیو نوجوانوں کی قیادت میں سٹارٹ اَپس اور ماہی پروری میں ویلیو ایڈیشن پر زور

سری نگر//مرکزی وزیر برائے ماہی پروری ، مویشی پالن اور ڈیری راجیورنجن سنگھ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر سول سیکرٹریٹ میں جموں و کشمیر کے مویشی پالن اور ماہی پروری کے شعبوں کی ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی مشترکہ طور پر صدارت کی۔میٹنگ میں وزیر زرعی پیداوار و پنچایتی راج جاوید احمد ڈار، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، مرکزی سیکرٹری الکا اپادھیائے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل سیکرٹری(سی ڈی ڈی/آئی ٹی)اور ماہی پروری، مویشی پالن و ڈیری کی وزارت کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اِس کے علاوہ میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری ایگری کلچر پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ شیلندر کمارسکاسٹ کے اور سکاسٹ جے کے وائس چانسلران اور متعلقہ محکموں کے سربراہان بھی موجود تھے۔مرکزی وزیر موصوف نے میٹنگ میں جموں و کشمیر کے مویشی اور ماہی پروری کے شعبوں میں بے پناہ پوشیدہ صلاحیتوں پر زور دیا اور مرکز کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دِلایا۔اُنہوں نے کہا،’’ہم آج یہاں آپ کی بات سننے، آپ کے مسائل سمجھنے اور مل کر کام کرنے کے لئے موجود ہیں۔ جہاں امکانات ہوں، وہاں عمل ہونا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے مرکز اور حکومت جموں و کشمیر کے مابین مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موجودہ صلاحیتوں کو نتائج میں بدلا جا سکے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ دیہی خوشحالی تبھی ممکن ہے جب اِقتصادی ترقی دیرپا معاش کے ذریعے نچلی سطح تک پہنچے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کومائیکرو او رچھوٹے پیمانے پر لائیو سٹاک اورمویشی پالن اور ماہی پروری کے کاروباروں میں داخل ہونے کی ترغیب دی جائے کیو ں کہ یہ روزگار اور جامع ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈِی ڈِی بی) اور نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی ) جیسے قومی اداروں کو شامل کرتے ہوئے ایک تفصیلی منصوبہ بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد مضبوط بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا اور کسانوں کو مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔اُنہوں نے حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں ایک ایکسپورٹرز کانفرنس اور پرائیویٹ سیکٹر سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا تاکہ کاروباری مواقع بڑھائے جا سکیں۔اُنہوں نے ڈیری کاموں کو غیر منظم شعبے سے منظم شعبے کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کوآپریٹیوز اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے وارانسی کی ڈیری کوآپریٹیوز کی مثال دی جہاں دودھ کی پیداوار کئی گنا بڑھ گئی اور مویشیوں کے فضلے سے بھی اضافی آمدنی حاصل کی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حکام کو چاہیے کہ وہ ایسے کامیاب ماڈلز کا مطالعہ کریں اور اُنہیں اپنائیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر کے دورے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے مشترکہ جائزے مقامی ترجیحات کی شناخت اور قومی بہترین طریقوں سے سیکھنے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑے صنعتی منصوبے ہمیشہ دیرپا نتائج نہیں دے پاتے جبکہ اصلی موقع زراعت، باغبانی، مویشی پالن، ماہی پروری اور سیاحت جیسے روایتی شعبوں کو مضبوط بنانے میں ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’ہماری طاقت انہی شعبوں میں ہے ۔ ہمیں ان پر کام کرنا چاہیے جو جموں و کشمیر کی جڑیں ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جموں و کشمیر بھارت کی 90 فیصد ٹراوٹ پیدا کرتا ہے لیکن اس شعبے میں منظم پروسسنگ اور ویلیو ایڈیشن کا فقدان ہے۔ اِسی طرحگوشت کی زیادہ کھپت کے باوجود مٹن کا بڑا حصہ باہر سے آتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملکی طلب پوری کرنے میں خود کفالت آمدنی بڑھانے اور درآمدات کم کرنے میں مدد دے گی۔ اُنہوں نے ڈیری سیکٹر میں کوآپریٹیوز کے بتدریج کے بارے میں بھی بات کی اور یقین دِلایا کہ حکومت کوآپریٹیو ثقافت کو بحال کرنے اور دودھ فراہم کنندگان کو منظم پروسسنگ نیٹ ورک سے جوڑنے کے لئے پُرعزم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈی پی)کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد تیل والی فصلوں کی پیداوار، چارہ، ڈیری، مٹن اور ماہی پروری کے اہم خلا کو دور کرنا ہے۔ اُنہوں نے مرکزی حکومت کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جائزہ کے دوران دی گئی تمام قیمتی تجاویز کو سنجیدگی اور جلد از جلدعملایا جائے گا۔اِس موقعہ پر مرکزی وزیر اور وزیر اعلیٰ نے ستواری جموں میں 50,000 لیٹریومیہ الٹرا ہائی ٹمپریچر( یو ایچ ٹی) مِلک پلانٹ کابذریعہ ورچیول موڈ اِفتتاح کیا اور ترقی پسند ڈیری کسانوں سے بات چیت کی جنہوں نے کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے ذریعے آمدنی میں بہتری اور منظم خریداری کے عمل کے اَپنے تجربات کا اشتراک کیا۔ اِس سے قبل پرنسپل سیکرٹری شیلندر کمار نے مویشی پالن اور ماہی پروری کے شعبوں کی کارکردگی پر تفصیلی پرزنٹیشن دی جس میں بتایا گیا کہ یہ شعبے جموں و کشمیر کی جی ڈی پی میں 12,634 کروڑ روپے (6.25 فیصد) کا حصہ اَدا کرتے ہیں۔ مویشیوں کی تعداد میں 24.54 لاکھ مویشی، 31 لاکھ بھیڑ، 15 لاکھ بکریاں اور 73 لاکھ بیک یارڈ پولٹری شامل ہیں جبکہ سالانہ دودھ کی پیداوار 2,875 ہزار میٹرک ٹن ہے اور ٹراوٹ کی پیداوار قومی سطح پر 90 فیصد بنتی ہے۔ پرزنٹیشن میں قومی پروگراموں کی کامیابیوں کا ذکر کیا گیا جیسے نیشنل لائیوسٹاک مشن کے تحت 2.9 لاکھ جانوروں کا بیمہ، بھیڑوں کے اے آئی سینٹروں کا قیام، جانوروں کی صحت اور بیماریوں کے کنٹرول کے لئے ویکسی نیشن مہمات اور 50 موبائل ویٹرنری یونٹوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ،این اے ڈی سی پی کے تحت 96 لاکھ ویکسینیشنز مکمل کی گئی ہیں اور راشٹریہ گوکل مشن نے اے آئی خدمات کو وسعت دی اور 1,500 سے زائد ایم اے آئی ٹی آر آئیز کو تربیت دی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی نے آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے، آرائشی ماہی پروری اور آر اے ایس یونٹوں کی مدد کی جس سے تقریباً 80,000 اَفراد مستفید ہورہے ہیں۔
نیشنل پروگرام فار ڈیری ڈیولپمنٹ کے تحت جے کے ایم پی سی ایل 2025-26 ء تک 500 کروڑ روپے کے کاروباری ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دو نئے دودھ کے پلانٹوں 258.10 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہیں۔ 11.33 لاکھ کسان کریڈٹ کارڈز جاری کئے جا چکے ہیںجن میں سے 2.46 لاکھ مویشی پالن اور ماہی پروری کے لئے مخصوص ہیں۔ اے ایچ آئی ڈی ایف نے 73 فیصد سکیموں کی منظوری حاصل کی ہے جس سے ڈیری اور پولٹری انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری ممکن ہوئی ہے۔بتایا گیا کہ 5,013 کروڑ روپے کے جامع زرعی ترقیاتی پروگرام میں سے 1,364 کروڑ روپے مویشی پالن اور ماہی پروری کے لئے مخصوص ہیں جس کا مقصد دودھ، مٹن اور انڈوں میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔زائد از 1,800 پشو سکھیوں کو تعینات کیا جا چکا ہے اور 500 ہائیڈروپونک چارے کے یونٹ قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ سبز چارہ کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے کسان ساتھی پورٹل، دکش کسان ایل ایم ایس اور آؤٹ پٹ ٹریکنگ ایپ جیسے پلیٹ فارموںپر کام جاری ہے۔ زائد اَز2,000 کسان خدمت گھروں کا قیام عمل میں ہے تاکہ دیہی سطح پر زرعی خدمات فراہم کی جا سکیں۔محکمے کی اصلاحاتی کوششوں نے قومی سطح پر شناخت حاصل کی ہے جس میں ایس کے او سی ایچ گولڈ ایوارڈ، انوویشن لیڈرشپ ایوارڈ اور 2024 ء کے لئے بہترین یوٹی برائے ماہی پروری کا ایوارڈ شامل ہیں۔