کپواڑہ//قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت ہند ملک کے ہر شہری کو انصاف فراہم کرنے کیلئے پُر عزم ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کپواڑہ جیسے دور دراز علاقوں سمیت ملک کے ہر کونے میں انصاف کی فراہمی کے نظام کے دائرے کو پھیلانے کیلئے مختلف اختراعی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ وزیر موصوف کپواڑہ ضلع کی لولاب وادی کے چندیگام میں بیداری کے ساتھ میگا لیگل ایڈ کیمپ سے خطاب کر رہے تھے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس دور افتادہ ضلع کے ان کے دورے کا مقصد مرکزی حکومت کی طرف سے زمینی سطح پر شروع کئے گئے ترقیاتی اور فلاحی پروگراموں کی عمل آوری کا جائزہ لینا ہے۔انہوں نے کہا کہ سٹالوں کا معائینہ کرتے ہوئے اور مختلف سرکاری سکیموں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے حوالے سے انتظامیہ سے رائے حاصل کرتے ہوئے انہیں اطمینان ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی باغبانی اور دستکاری اپنے معیار اور انفرادیت کیلئے ڈپنیا بھر میں مشہور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر نہ صرف زمین پر جنت ہے بلکہ اسے ملک کے اقتصادی مرکز کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے جس کیلئے مرکزی حکومت ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے ۔ عدلیہ کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ملک میں نچلی عدلیہ کی ترقی کیلئے 9000 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اس موقعہ پر جسٹس علی محمد ماگرے جج ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر اور لداخ اور ایگزیکٹو چئیر مین جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی ، جسٹس ونود چٹر جی کول جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج اور ضلع کپواڑہ کے ایڈمنسٹریٹو جج نے بھی خطاب کیا ۔ اِس سے قبل اپنی آمد پر وزیر اور معززین نے مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے مختلف سٹالوں کا معائینہ کیا اور متعلقہ مستحقین میںتوصیفی اسناد اور ایوارڈ تقسیم کئے ۔ پروگرام میں ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کپواڑہ کی طرف سے شائع ہونے والا ایک نیوز لیٹر میگزین جاری کیا گیا ۔ اس موقعہ پرایگزیکٹیو چیئرمین جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی جسٹس علی محمد ماگرے ، ضلع کپواڑہ کے انتظامی جج جسٹس ونود چٹرجی کول ، پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تسلیم عارف ، چیئر مین ڈی ڈی سی کپواڑہ عرفان سلطان پنڈت پوری ، وائس چیئر مین ڈی ڈی سی حاجی فاروق احمد میر ، ڈپٹی کمشنر کپواڑہ امام الدین ، ممبر سیکرٹری جے کے ایل ایس اے ایم کے شرما اور سیکرٹری ڈی ایل ایس اے کپواڑہ مزمل وانی موجود تھے ۔ وزیر نے مختلف اقسام کے پودے بھی لگائے ۔ وزیر نے سٹال مالکان سے بات چیت کی اور ضلع میں عوامی بہبود کی مختلف سرکاری سکیموں کے نفاذ کے بارے میں رائے حاصل کی ۔










