dooran

مرکزی وزارتِ دیہی ترقی کی منریگا کے تحت بڑی منظوری

جموں و کشمیر کیلئے 4.45 کروڑ یومیہ مزدوری کے نظرثانی شدہ لیبر بجٹ کو ہری جھنڈی

سرینگر/یو این ایس// مرکزی وزارتِ دیہی ترقی نے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم (منریگا) کے تحت مالی سال 2025-26کیلئے جموں و کشمیر کا نظرثانی شدہ لیبر بجٹ منظور کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جموں کشمیر کیلئے 4.45 کروڑ یومیہ مزدوری کی منظوری دی گئی ہے، جو وِکست بھارت،گارنٹی فارایمپلائمنٹ اینڈ آجیویکا مشن (گرامین) کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ منظوری جموں و کشمیر محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کے بعد دی گئی، جس میں سیلاب سے متاثرہ، دور دراز اور کمزور دیہی علاقوں میں روزگار کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور دیہی خاندانوں کے ذریعہ معاش کو مستحکم بنانے پر زور دیا گیا تھا۔اس سلسلے میں وزارتِ دیہی ترقی کی بااختیار کمیٹی کا ایک اجلاس ورچوئل موڈ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت مرکزی سیکریٹری دیہی ترقی شیلش کمار سنگھ نے کی۔ اجلاس میں جوائنٹ سیکریٹری مہاتما گاندھی نریگا روہنی آر بھاجی بھاکرے، سیکریٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج جموں و کشمیر محمد اعجاز اسد اور ایڈیشنل سیکریٹری وسیم راجہ نے شرکت کی۔کمیٹی نے جموں و کشمیر میں روزگار کی بڑھتی ہوئی مانگ، حالیہ سیلاب کے بعد بحالی کی ضروریات اور تمام اضلاع میں منریگا کاموں کی بلا تعطل عمل آوری کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نظرثانی شدہ لیبر بجٹ کا مقصد بروقت اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانا، جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی ہموار تکمیل اور دیہی روزگار کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق مرکزی وزارت نے منریگا کے تحت یونین ٹیریٹری کی 1,962 سیلاب متاثرہ گرام پنچایتوں کے لیے اضافی 50 دن کے روزگار کی منظوری بھی دی ہے۔ اس اقدام سے حالیہ قدرتی آفات سے متاثرہ دیہی خاندانوں کو فوری معاشی سہارا فراہم ہوگا۔حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں اوسطاً سالانہ 381 لاکھ یومیہ مزدوری پیدا کی گئی، جبکہ موجودہ مالی سال کے بقیہ چار مہینوں میں متوقع طلب کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 195 لاکھ یومیہ مزدوری درکار ہوگی۔ اسی تناظر میں لیبر بجٹ کو سابقہ 250 لاکھ یومیہ مزدوری سے بڑھا کر 445 لاکھ یومیہ مزدوری کر دیا گیا ہے، جبکہ اب تک 287 لاکھ یومیہ مزدوری کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26کے لیے گرام پنچایت سطح پر لیبر بجٹ اور منصوبہ جاتی کاموں کی فہرستیں مالی سال کے آغاز سے قبل ہی نریگا سافٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں، تاکہ گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان کے مطابق کاموں کی بروقت عمل آوری ممکن ہو سکے۔سیکریٹری دیہی ترقی محمد اعجاز اسد نے بتایا کہ سالانہ ایکشن پلان کے تحت مجموعی طور پر 2.24 لاکھ کاموں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ستمبر کے بعد منظور شدہ وہ خصوصی منصوبے بھی شامل ہیں جو حالیہ سیلاب کے دوران تباہ شدہ اثاثوں کی بحالی سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاگت کے اعتبار سے 60 فیصد سے زائد منصوبے زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا مقصد پائیدار دیہی اثاثوں کی تخلیق اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونین ٹیریٹری کنورجنس پلان کے تحت 19 محکموں کے اشتراک سے 8,239 منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، تاکہ مختلف سرکاری اسکیموں کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔مرکزی وزارتِ دیہی ترقی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محمد اعجاز اسد نے کہا کہ نظرثانی شدہ لیبر بجٹ منریگا کے تحت جموں و کشمیر میں اجرتی فنڈز کی بروقت دستیابی اور اسکیم کی شفاف، مؤثر اور بلا تعطل عمل آوری کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا، جس سے دیہی علاقوں میں روزگار اور ذریعہ معاش کو خاطر خواہ تقویت ملے گی۔