گیارہویں جماعت کے بورڈ اِمتحان ختم کرنے اور معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور
سری نگر// مرکزی سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم و خواندگی ( ڈِی او ایس اِی ایل) سنجے کمار نے سینئر اَفسران کی ٹیم کے ساتھ جموں و کشمیر کے سکولی تعلیمی محکمے کا تفصیلی جائزہ لیا۔مرکزی سیکرٹری نے ایس کے آئی سی سی سری نگر میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور اُنہوں نے جموں و کشمیر کے تمام سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے لئے دیرپا اِنفراسٹرکچر اَپ گریڈیشن پر زور دیا۔ میٹنگ کے شروعات میں سنجے کمار نے سرکاری سکولوں میں طلبأکے داخلے میں بڑے پیمانے پر اِضافے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت دی کہ تمام تعلیمی اِداروں میں پیشہ ورانہ اور ہنر پر مبنی تعلیم کے ذریعے معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔میٹنگ میں سیکرٹری سکولی تعلیم جموں و کشمیر رام نواس شرما، ڈائریکٹر جنرل سکولی تعلیم کشمیر جی این اِیتو، ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں ڈاکٹر نسیم چودھری اور محکمہ تعلیم کے مختلف وِنگوںکے سینئر اَفسران بشمول سماگراہ شکھشا، جے کے بی او ایس اِی، ایس سی اِی آر ٹی اور ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر و جموں کے اَفسران نے شرکت کی۔مرکزی سیکرٹری نے جائزہ کے دوران جموں و کشمیر میں سکولی تعلیم کے معیار کو مزید مضبوط بنانے کے احکامات دئیے اور بنیادی ڈھانچے کی کمی، ہیومن ریسورسز کے مؤثر اِنتظام اورسکول سے باہر بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے پر خصوصی زور دیا۔سنجے کمار نے جموں و کشمیر میں بچوں کی ہمہ جہتی ترقی اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے تمام شراکت داروں کی مربوط کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے جائز ہ کے دوران طلبأ کے سکول چھوڑنے کے مسئلے پر تشویش ظاہر کی اور اَفسران کو ہدایت دی کہ کوئی بھی طالب علم بارہویں جماعت مکمل کئے بغیر سکول نہ چھوڑے۔مرکزی سیکرٹری نے پری پرائمری سکولوں کی مؤثر کام کاج پر بھی زور دیا اور کنڈرگارٹن کلاسوں میں بڑے پیمانے پر بچوں کے اِندراج پر زور دیا۔اُنہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت دی کہ وہ گیارہویں جماعت کے بورڈ اِمتحان پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی اور جے کے بی او ایس اِی سے کہا کہ وہ اسے ختم کر دیں۔اُنہوں نے سرکاری سکولوں میں نسبتاً کم داخلوں پر تشویش کا اِظہار کیا اور اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ سرکاری سکولوں کو تعلیم و کیریئر کی ترقی کا بنیادی مرکز بنانے کے لئے اَقدامات کریں۔شروعات میں جموں و کشمیر میں سی بی ایس اِی کے علاقائی دفتر کے قیام کی تجویز پر بھی غوروخوض کیا گیا۔ دیگر ایجنڈوںمیں این اِی پی۔2020 کے مطابق نصاب کو اَپنانا، این سی ایف،سی بی ایس اِی نصاب، اسسمنٹس، بورڈ اِمتحانات کے اِنعقاد پر اساتذہ کی تربیت اور ڈِی او ایس اِی ایل کی جانب سے پیش کئے گئے تعلیمی اشارے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اِس کے علاوہ سماگراہ گورو شکھشا ، پی ایم ایس ایچ آر آئی اور دیگر سکیموں کے تحت عمل آور اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔مرکزی سیکرٹری موصوف نے پی اے آر اے کے ایچ، ہائی پاورڈ کمیٹی (ایچ پی سی) اور ڈیجیٹل اَقدامات جیسے ڈِی آئی کے ایس ایچ اے ، وِی ایس کے اور پی ایم اِی۔وِی آئی ڈِی وائی اے چینلوں کے اِستعمال کا بھی جائزہ لیا۔ اُنہوں نے جموںوکشمیر میں ڈِی آئی اِی ٹی اور آئی ٹی اِی پی اِداروں کے کام کاج کا جائزہ لیا اور مختلف تربیتی کورسوں کے تحت اَساتذہ کی صلاحیت سازی پر زور دیا۔مرکزی سیکرٹری کے ساتھ سینئر اَفسران میں یونین ایڈیشنل سیکرٹری ڈیجیٹل ایجوکیشن آنند راؤ پاٹل، اکنامک ایڈوائزرڈِی او ایس اِی ایل اے سریجا، ڈِی ڈِی جی سٹیٹسٹکس پنکج کے پی شریاسکر، ڈائریکٹر ڈیجیٹل ایجوکیشن ہری کمار جانکیرامن،ڈائریکٹر یوٹی سری کلا پی وینوگوپال، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈِی او ایس اِی ایل رام سنگھ اورٹی ایس جی کنسلٹنٹ جموںوکشمیر ڈِی او ایس اِی ایل عبدالمومٔن شامل تھے۔اِس موقعہ پر ڈائرکٹر این سی اِی آر ٹی دینیش پرساد سکلانی ،چیئرپرسن، سی بی ایس ای راہل سنگھ، چیئرپرسن این سی ٹی اِی پنکج اروڑہ ، چیئرپرسن این آئی او ایس اکھیلش مشرا اور سی اِی او اور سربراہ پی اے آر اے کے ایچ اندرانی بھدوری بھی موجود تھے۔










