جی ایس ٹی 2.0کے آٹو موبائل سیکٹر پر مثبت اثرات

مرکزی سرکار کی جانب سے جی ایس ٹی میں چھوٹ کے اعلان پر ملک بھرکے عوام نے اطمنان کااظہارکیا

ہول سیل ڈیلروں ،پرچون دوکانداروں نے ابھی تک قیمتیں کم نہیں کی ،جی ایس ٹی کامعاملہ ملک بھرمیں موضوع بحث

سرینگر//اے پی آئی// مرکزی حکومت کی جانب سے نوبرسوں کے بعد جی ایس ٹی میں کمی کااعلان کرنے کے بعد کیاہول سیل ڈیلروں اور پرچون دوکانداروں کی جانب سے قیمتوں میں کمی لائی جائے گی یا یہ بہانا بنایاجائیگا کہ ابھی نیامال ان کے پاس نہیں آیاہے اور نئے جی ایس ٹی کے تحت فی الحال ضروریات کی اشیاء فروخت نہیں کی جاسکتی ہے ۔اس صورتحال کے لئے مرکزی سرکار ریاستی اور مرکزی زیرانتظام کی علاقوں کی حکومتوں نے کیالائحہ عمل اپنایاہے اور اس وقت عوامی حلقوں میں اس پرزور دار بحث ہورہی ہیں ۔وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران دوکانداروں کوریٹ لسٹ اویزان رکھنے کی تلقین کی تاہم ملک کے بڑے شہروں سے جو اطلاعات موصول ہورہی ہے ان کے تحت ابھی تک راحت نہیں دکھائی دے رہی ہے ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق مرکزی حکومت نے نوراترا تہوار شروع ہونے سے ایک دن پہلے جی ایس ٹی میں کمی کا اعلان کیااور اب جی ایس ٹی کی شرح 0,5اور 18%مقرر کی گئی ہے ۔390کے قریب ایسی اشیاء کی جی ایس ٹی پانچ فیصدی مقرر کی گئی ہے جن کے ساتھ ہرانسان کاتعلق ہے اور لوگ یہ اشیاء ہردن استعمال کررہے ہیں ۔جی ایس ٹی میں چھوٹ کے اعلان پراگرچہ ملک بھرکے عوام نے اطمنان کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ دیرآئے درست آئے تاہم عوام کو راحت کی ضرورت تھی جس کی طرف ملک کے وزیراعظم نے اپنی توجہ مبزول کی اور جی ایس ٹی کی شرح فوری طور کم کردی ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی سرکا رنے اعلان کیا،کیاہول سیل ڈیلر اور پرچون دوکاندار مرکزی سرکار کے فیصلے پرعمل کرتے ہوئے عوام کو راحت دلانے کے موڑ میں ہے ۔کیامرکزی سرکار کے اعلان کے فوری بعد عوام کوراحت ملناشروع ہوگئی ہے۔ کیابازاروں میں روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی ا ٓآئی ہے کیاعام لوگ اب راحت محسوس کررہے ہیں ۔ یہ ایک ایساسوال ہے جس پر ملک بھرمیں لوگ اپنے خیالات کااظہار کررہے ہے ۔کہ وہ ہوٹلوں، ریسٹورینٹوں میں یہ بحث زیرموضوع ہوا کرتاہے کہ جی ایس ٹی میں چھوٹ سے عوام کوراحت ملناکب شروع ہوگا۔لوگوں کاکہناہے کہ ابھی تک ہول سیل ڈیلروں یاپرچون دوکانداروں کی جانب سے لوگوں کوراحت نہیں مل پارہی ہے ۔پرچون دوکانداروں کامانناہے کہ ان کے پاس نیامال نہیں پہنچا اور ہول سیل ڈیلروں کایہ کہناہے ان کے گداموں او ردوکانوں میں جومال انہوںنے ذخیرہ کیاہے ،اس پرانہوںنے جی ایس ٹی ادا کیاہے ۔یہ صورتحال پورے ملک میں بنی ہوئی ہے ۔اس صورتحال سے لوگوں کوباہر نکال کرراحت دلانے کے لئے مرکزی سرکار ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں نے کیالائحہ عمل اپنایاہے اس بارے میں ابھی تک لوگوں کوکسی بھی طرح کی جانکاری فراہم نہیں کی گئی ۔اور نہ ہی نئے قیمتوں کے مطابق دوکانداروں نے ریٹ لسٹ اویزان رکھے ہیں ۔مثال کے طور پرجی ایس ٹی میں چھوٹ کااعلان کرنے سے پہلے کسی بھی دال کی قیمت دو سو روپے کے قریب تھی اور یہ قیمت آج بھی بھر قرار ہے ۔صابن سے لیکر برش تک ہلدی، مرچ ابھی بھی اسی قیمت پرفروخت ہورہی ہے ،جو ا سے پہلے پرچون دوکانداروں نے مقرر کی تھی ۔مرکزی حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی پرچھوٹ اس لئے دے دی گئی کہ اسے غریب عوام کوفوری طو رپرراحت محسوس ہواور وہ جواضافی رقم قیمتیں ادا کرنے کی صورت میں خرچ کررہے تھے ۔اس کی بچت ہوگی تاہم زمینی صورتحال ا سکی گواہی نہیں دیتے ہے ۔ملک بھرمیں بالعموم او رجموںو کشمیرمیں بالخصوص جی ایس ٹی میں چھوٹ کااعلان ہونے کے بعد اگرچہ عوامی حلقوں نے اس کاخیرمقدم کیاتاہم ابھی تک راحت نہیں مل پارہی ہے یہ راحت عام انسان کوکب ملناشرو ع ہوگی اسکاسبہی کوانتظار ہیں ۔