sajad lone

مرکزی سرکار جموں و کشمیرکو سیاسی تجربہ گاہ بنانے سے اب گریز کرے عوام مشکلات سے دو چار

سٹیٹ ہڈ بحال کرنے کے لئے جہاں بھی جد وجہد کرنے کاموقع ملے گاا پنی خدمات انجام دوںگا/سجاد غنی لون

سرینگرْْ مرکزی حکومت کوجموںو کشمیرکوتجربہ گاہ نہ بنانے کامشورہ دیتے ہوئے پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہاکہ دس برسوں کے بعد کااسمبلی الیکشن غیرمعامولی تھا2014میں جب میں ممبراسمبلی منتخب ہوا تو وہ ایک طاقتور اسمبلی تھی اب کی بار جوسٹفیکٹ لے کرمیں جاوں گا وہ ملک کی تمام ریاستوں او رمرکزی زیرانتظام علاقوں کی کمزور ترین اسمبلی ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت بار با رجموںو کشمیرکے حوالے سے تجربے کررہی ہے میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ایساکرناچھوڑ دے ۔پچھلے دس برسوں سے جموںو کشمیرکے لوگ کافی مصائب ومشکلات سے دو چارہے ضرور ت اس امرکی ہے کہ اب لوگوں کے مسائل کی طرف تو جہ دی جائے اور انہیں راحت پہنچائی جاسکے ۔پیپلز کانفرنس کے صد رنے کہاکہ لنگیٹ حلقے میں این سی کے ورکروں اور کا رکنوں نے کھل کر عوامی اتحا دپارٹی کے نامز دامیدوا رکے حق میں اپنے حق کو ووٹ دیااور عوام اتحا دپارٹی کی سربراہ کی خالفت بھی کرتے ہیں یہ جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکار کوجموںو کشمیرکاسٹیٹ ہڈ بحال کرنے کے لئے جلد سے جلداقدامات اٹھانے چاہئے او راس سلسلے میںجہاں کئی مجھے جد وجہد کرنے کاموقع ملے گا میں ایسا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا۔میںاپنے عوام جنہوںنے مجھے ووٹ دیاجنہوںنے میرے خلاف ووٹ دیاان کاشکریہ اد اکرتاہوں کہ ایک پرُامن ماحول میں ہم نے اسمبلی الیکشن کے اس مرحلے کواختتام تک پہنچایااور ایک نئے دور میں ہم داخل ہوئے ۔