مرکزی زیر انتظام علاقے جموں وکشمیرمیں بیروز گاری انتہاء پر

چھ سو اسامیوں کوپرُ کرنے کے لئے ایک لاکھ نو ہزار امیدواروں نے اب تک درخواستیں جمع کرائی

سرینگر//اے پی آئی// جموںوکشمیر میںبیروز گاری کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ فائینانس اکاونٹس افسروں کی چھ سو اسامیاں پرُکرنے کے لئے نوٹفکیشن جاری کردی گئی ،اب تک ایک لاکھ نوہزار درخواستیں موصول ہوئی ،جس کے تحت ایک اکاونٹس افسرکی اسامیوں کے لئے ایک ہزا رنو امیدوار ہیں ،لوازمات پور اکرنے اور بینک ڈرافٹ کی شکل میں اگر ہر ایک امیدوار کوچھ سوروپے بینک ڈرافٹ پیش کرنا ہوگاتو سرکاری خزانے کو اب تک چھ کروڑروپے کی امدانی حاصل ہوئی ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق جموںو کشمیر جس سے ملک کاتاج کہنے میں حکمران اور حزب اختلاف کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں ۔اس پسمانہ جموںو کشمیرمیں بیروزگاروی انتہاء پر۔ سرکار اعداد شمار کوہی اگر صحیح مانا جائے تو تین لاکھ ستر ہزار کے قریب بیروزگاروں نے ایمپلائیمنٹ ایکس چینجوں میں اپنی رجسٹریشن اب تک کرائی ہیں ۔جموں وکشمیر میں بیروز گاری کاموازنہ اس طرح سے کیاجاسکتا ہے کہ چھ سو فائینانس اکاونٹس افسروں کی اسامیوں کوپرُکرنے کے لئے نوٹفکیشن جاری کردی گئی اور ان اسامیوںکواب تک پرُکرنے کے لئے ایک لاکھ نوہزار درخواستیں سروس سلیکشن بورڈ کوموصول ہوئی ۔درخواستوں کے مطابق ایک نوکری کے لئے ایک ہزا رنوامیدوا رہیں جسے بیروز گاری کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ملک کاتاج کس قدر معاشی اقتصادی طور پرمضبو ط مستحکم ہے، کسی بھی سرکاری نوکری کوپر ُکرنے کھ لئے سرکار نے بینک ڈرافٹ ساتھ رکھنا لازمی قرار دیاہے تاکہ امیدواروں کے لئے امتحانی سینٹروں عملے اور دوسری ضروریات کاخیال رکھاجاسکے ۔اگر اب تک ایک لاکھ نوہزار امیدواروں نے فارم جمع کرائے اور ایک امیدوار کواگر چھ سو روپے بیک ڈرفٹ کی صورت میں جمع کرنے پڑے تو ان بیروز گاروں نے سرکاری خزانے کوچھ کروڑ روپے آمدانی کی صورت میں فراہم کئے ۔اسامیاں چھ سو پرُکرنی ہیں درخواست اب تک ایک لاکھ نوہزا رجمع کئے گئے کیا۔سرکار ان امیدواروں کوبینک ڈرافٹ کی رقم واپس کریگی جومنتخب نہیں ہونگے ۔اگر سرکار یہ پیسے خزانہ عامرہ میں ہی رکھے گی کیایہ ا سکاحق ہے کیاان امیدواروں کے ساتھ یہ ناانصافی نہیں، جنہوںنے خون پسینے کی کمائی یاان کے والدین نے قرض اٹھاکر ان کی اس مانگ کوپورا کیا۔سال 2024 میں درخواستیں جمع کرنے کے دوران خزانہ عامرہ کو تیس کروڑ روپے کی آمدانی حاصل ہوئی کیاسرکار اپنی مالی معاشی اور اقتصادی بدحالی کودو ر کرنے کے لئے یہ طریقہ کار اپنارہی ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق جموںو کشمیرمیں بیروز گاری کے خاتمے کے لیے جوخواب دکھائے گئے وہ شرمندہ تعبیر کیوں نہیں ہوئے ۔بیرونی سرمایہ کاری کا کیاہوا ،فاسٹ ٹریک بنیادوں پرسرکاری اداروں میں خالی پڑی اسامیوں کوپرُکرنے کے لئے اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جاتے ہیں۔ کیاسرکار جموں وکشمیرمیں مشن یوا کے تحت ایک لاکھ نوجوانوں کوروز گار فراہم کرنے کے وعدے کوعملی جامہ پہناسکتی ہے اور ایسے نوجوانوں کومالیاتی اداروں سے لون فراہم کیاجائیگا۔ان کاکاروبا رپھر چلے یانہ چلے لیکن سرکار کے ریکارڈ میں یہ بات درج ہوئی کہ وعدے کاوفا کیاگیا۔ ایک لاکھ کے قریب بیروز گاروں کوروز گار فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ۔جب تک نہ مرکزی سرکار جموںو کشمیرمیںبیروزگاری کے خاتمے کے لئے خود سامنے آئے گی تب تک جموں کشمیرمیں بیرو زگاری کے خاتمے اور روز گار فراہم کرنے کے دعووں کوعملی جامہ پہنانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔