مرکزی حکومت کے دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر میں ترقی ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں: محمد یوسف تاریگامی

سری نگر، 4 فروری  (یو این آئی) سی پی آئی(ایم) کے سینئر لیڈر محمد ہوسف تاریگامی نے مرکزی حکومت کے پارلیمنٹ میں کئے جانے والے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ دفعہ 370 کی تنیسخ کے بعد جموں وکشمیر اور لداخ میں سماجی و اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے یہ دعوے  دھوکہ دہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں کیونکہ زمینی سطح پر صورتحال ان کے برعکس ہے۔
موصوف لیڈر نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ دفعہ 370 کی غیر آئینی تنسیخ کے بعد بی جے پی حکومت نے لوگوں سے کہا کہ جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی، علاحدگی پسندی، تشدد، غربت اور کورپشن کی وجہ یہی دفعہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دفعہ ہٹانے کا ڈیرھ برس بیت گیا لیکن زمینی سطح پر کچھ بھی بدل نہیں گیا جس کے لئے بی جے پی قوم کے سامنے جواب دہ ہے۔
موصوف لیڈر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں سال 2019 کے نسبت سال 2020 کے دوران زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی بھی زیادہ خلاف ورزیاں ہوئیں۔
مسٹر تاریگامی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں مرکزی حکومت نے فور جی موبائل انٹرنیٹ خدمات پر پابندی جاری رکھنے کے سلسلے میں اعتراف کیا کہ جموں وکشمیر میں تشدد کا گراف بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران تمام شعبہ ہائے حیات متاثر ہوئے ہیں اور یہاں کی تجارت اور سیاحت کے شعبے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں اور سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔
ان کا الزام تھا کہ بی جے پی حکومت نے جموں وکشمیر کی اقتصادی ترقی کے لئے کوئی موثر اقدام نہیں کئے سوائے اس کے کہ ڈومیسائل قوانین کو تبدیل کر دیا۔